Advertisements

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی قومی وحدت اور خودمختاری کا پیغام

Advertisements

اداریہ — 5 اپریل 2026

گزشتہ روز 4 اپریل کو پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف تقاریب، جلسوں اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جہاں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی سیاسی و قومی خدمات کو یاد کیا گیا۔

Advertisements

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ کے ان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ملک کی نظریاتی، آئینی اور دفاعی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ 1973 کا متفقہ آئین ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے، جبکہ لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس 1974 ان کی عالمی سفارتی بصیرت کا مظہر ہے، جس نے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔

ان کی قیادت میں شروع کیا جانے والا ایٹمی پروگرام آج پاکستان کے دفاع کا ایک ناقابلِ تسخیر ستون بن چکا ہے۔ یہی پروگرام ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

گڑھی خدا بخش میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو کے دیے گئے ایٹمی پروگرام کی بدولت آج کوئی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دیتی ہیں، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قوم کو متحد رکھنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد دشمن پاکستان کے خلاف ویسی جارحیت کی جرات نہیں کر سکتا جیسی دیگر خطوں، خصوصاً فلسطین اور لیبیا میں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق قائدِ عوام نے ایٹمی بنیاد رکھ کر ملک کو عالمی خطرات سے محفوظ بنایا اور یہی ان کی دوراندیش قیادت کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو جیسی قیادت ناگزیر ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جدوجہد اور خدمات پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اگرچہ ان کی شخصیت اور سیاست پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن ان کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض برسی منانے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے نظریات—جمہوریت، عوامی حقوق اور قومی خودمختاری—کو عملی شکل دیں۔ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور مضبوط پالیسی سازی ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکال سکتی ہے۔

قائدِ عوام کی برسی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی ترقی اصولوں، اتحاد اور بصیرت افروز قیادت سے مشروط ہوتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے اپنانے کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔