عالمی یومِ خواتین: پاکستانی میڈیا میں خواتین صحافیوں کی محدود نمائندگی
اداریہ —– 15 مارچ 2026
دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق، مساوی مواقع اور معاشرتی انصاف کے لئے شعور اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن کے موقع پر مختلف تقاریب اور مباحثے منعقد کئے جاتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خواتین کو سماجی اور پیشہ ورانہ میدانوں میں اب بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں میڈیا کا شعبہ بھی شامل ہے جہاں خواتین کی نمائندگی محدود ہے۔
پاکستانی میڈیا میں خواتین صحافیوں کی مجموعی تعداد مرد صحافیوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق ملک میں میڈیا کے شعبے میں خواتین کی شرکت عمومی طور پر 10 سے 15 فیصد کے درمیان ہے۔ بڑے شہروں کے ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا میں اگرچہ خواتین کی موجودگی نسبتاً نمایاں نظر آتی ہے، مگر رورل پاکستان میں یہ شرح انتہائی کم ہے اور کئی اضلاع میں خواتین صحافیوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ عدم توازن صرف نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ میڈیا اداروں کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستانی میڈیا میں اعلیٰ ادارتی اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر خواتین کی شرح تقریباً 3 سے 5 فیصد کے درمیان ہے۔ اس صورتحال کے باعث میڈیا کے بیانیے کی تشکیل میں خواتین کی آواز کمزور رہ جاتی ہے۔
خواتین صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کئی اضافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ٹرولنگ، کردار کشی اور دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ متعدد خواتین صحافیوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ انہیں پیشہ ورانہ ماحول میں جنسی ہراسانی اور غیر مناسب رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد اور ترقی کے مواقع کو متاثر کرتا ہے۔
خصوصی طور پر رورل پاکستان میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کے لئے حالات مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔ وہاں سماجی دباؤ، محدود پیشہ ورانہ مواقع اور وسائل کی کمی کے باعث خواتین کے لئے صحافت کے شعبے میں آنا اور برقرار رہنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ نتیجتاً رورل علاقوں میں خواتین کے مسائل اور تجربات اکثر قومی میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔
عالمی یومِ خواتین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ میڈیا جیسے بااثر شعبے میں خواتین کی مؤثر شمولیت نہ صرف صنفی مساوات کے لئے ضروری ہے بلکہ ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ سماجی بیانیہ تشکیل دینے کے لئے بھی اہم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے خواتین کے لئے محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کریں، انہیں پیشہ ورانہ ترقی کے مساوی مواقع دیں اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنائیں۔
ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لئے جہاں ہر آواز کو سنا جائے، یہ ناگزیر ہے کہ پاکستانی میڈیا میں خواتین صحافیوں کی شرکت اور قیادت کو فروغ دیا جائے، خصوصاً رورل پاکستان میں، تاکہ قومی مکالمہ زیادہ جامع اور منصفانہ بن سکے۔

