Advertisements

برطانیہ میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی فیضان عارف کا رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی 22 سالہ جدوجہد کو خراجِ تحسین

UK-Based Senior Pakistani Journalist Praises RMNP’s 22-Year Advocacy for Rural Journalists
Advertisements

برطانیہ میں صحافتی آزادی قانون کی حدود میں محفوظ ہے، جبکہ پاکستان کے رورل صحافی اور ضلعی نامہ نگار آج بھی تنخواہوں، انشورنس اور پیشہ ورانہ تحفظ سے محروم ہیں: فیضان عارف


بہاولپور:
 برطانیہ میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی، مصنف اور شاعر فیضان عارف نے رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی جانب سے گزشتہ 22 برس سے رورل صحافیوں اور ضلعی نامہ نگاروں کے حقوق کے تحفظ اور پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لیے جاری جدوجہد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے رورل صحافیوں کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Advertisements

بہاولپور میں رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر احسان احمد سحر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے فیضان عارف نے کہا کہ برطانیہ میں آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کو قانون کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے، تاہم یہ آزادی غیر ذمہ دارانہ، جھوٹی یا ہتک آمیز صحافت کی اجازت نہیں دیتی۔

انہوں نے حالیہ قانونی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی ایک عدالت نے ہتک آمیز مواد نشر کرنے پر پاکستانی یوٹیوبر عادل راجہ پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا۔ انہوں نے مزید یاد دلایا کہ 1997ء میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے متعلق جھوٹی خبر شائع کرنے پر ایک لاکھ پاؤنڈ ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا۔

برطانوی میڈیا میں صحافیوں کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں

فیضان عارف نے برطانیہ اور پاکستان کے میڈیا نظام کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں کوئی بھی میڈیا ادارہ کسی صحافی سے بغیر معاوضے کے خدمات حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو باقاعدہ تنخواہوں، واضح ملازمت کے معاہدوں اور پیشہ ورانہ حقوق کے ساتھ ملازمت دی جاتی ہے، جبکہ فری لانس یا مختصر مدت کی صحافتی ذمہ داریوں کا بھی مناسب معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بی بی سی میں تنظیمِ نو کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی تعداد میں کمی کے دوران متاثرہ کارکنوں کو ایسے مالی پیکجز دیے جاتے ہیں جو انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے یا نئے پیشہ ورانہ مواقع اختیار کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔

پاکستان میں رورل صحافیوں اور ضلعی نامہ نگاروں کی صورتحال تشویشناک

فیضان عارف نے کہا کہ پاکستان میں رورل صحافیوں اور ضلعی نامہ نگاروں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی آباد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کی اشاعت میں اضافے اور خبروں کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرنے کے باوجود بیشتر ضلعی نامہ نگار آج بھی تنخواہوں، انشورنس، پیشہ ورانہ تربیت اور ملازمت کے تحفظ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی گزشتہ 22 سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے دور دراز، پسماندہ اور محروم علاقوں میں پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص جاگیردارانہ اثر و رسوخ یا انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع کے صحافیوں کے لیے تربیتی پروگراموں کے انعقاد اور ضلعی نامہ نگاروں کے قتل، تشدد، حراست اور گرفتاری جیسے واقعات کو صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے سامنے مسلسل اجاگر کرنے کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

ریاستِ بہاولپور پر تحقیقی کتاب زیرِ تصنیف

گفتگو کے دوران فیضان عارف نے احسان احمد سحر کو بتایا کہ وہ سابق ریاستِ بہاولپور کے آخری حکمران نواب سر صادق محمد خان عباسی پر ایک تحقیقی کتاب تصنیف کر رہے ہیں، جس میں عباسی حکمرانوں اور برطانوی شاہی خاندان کے درمیان تاریخی تعلقات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق کے لیے وہ لندن میں واقع انڈیا آفس لائبریری کے تاریخی ریکارڈ سے مسلسل استفادہ کر رہے ہیں تاکہ 1947ء سے قبل ریاستِ بہاولپور کی تاریخ اور برطانوی ہند کے ساتھ اس کے تعلقات کو مستند انداز میں قلم بند کیا جا سکے۔

صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ

یہ ملاقات بہاولپور میں فیضان عارف کی جانب سے مقامی صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر ہوئی۔

اس موقع پر روزنامہ ڈان کے مجید گل، روزنامہ ستلج کے فضل حمید احمد، پندرہ روزہ حقیقت کے سعید احمد، روزنامہ مشعل کے مجید ہاشمی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ ابلاغیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شہزاد رانا، ریڈیو پاکستان لاہور کے کنٹرولر نیوز سجاد پرویز، روزنامہ صادق الاخبار کے ڈاکٹر محمد ندیم، پریس کلب سمہ سٹہ کے سرپرستِ اعلیٰ افتخار احمد علوی، لودھراں کے سینئر صحافی مبشر وسیم لودھی، محکمہ اطلاعات کے سابق افسر فضل محمود، ریڈیو پاکستان بہاولپور کے خلیل سید، روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ کے احسان احمد سحر اور دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔

ماخذ: رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان