اوچ شریف کے صحافی عابد مستوئی پر فائرنگ، قاتلانہ حملہ میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے، مقدمہ درج
دو نامعلوم مسلح افراد نے عابد مستوئی کی اقامت گاہ کے قریب ان پر فائرنگ کی، جنہوں نے اپنی موٹر سائیکل پھینک کر اپنی جان بچائی
جرنلسٹس الائنس جنوبی پنجاب چیپٹر کے نائب صدر سید لیاقت علی رضوی کی رپورٹ، صحافتی تنظیموں کا مسلح ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ
ہتھیجی (لیاقت علی رضوی سے) سٹی پریس کلب اوچ شریف کے جنرل سیکرٹری اور مقامی صحافی محمد عابد خان مستوئی پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ، دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گھر کے قریب پہنچنے پر پستول سے فائرنگ کردی، صحافی نے موٹر سائیکل پھینک کر گھر میں داخل ہوکر جان بچائی۔
محمد عابد خان مستوئی کے مطابق وہ للو والی پل سے اپنی رہائش گاہ بستی بخشندے خان کی جانب جا رہے تھے۔ جب وہ گھر کے قریب پہنچے تو سی ڈی 70 موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر انہیں جان سے مارنے کی نیت سے پستول سے فائر کیا۔
صحافی کے مطابق فائرنگ ہوتے ہی انہوں نے اپنی موٹر سائیکل وہیں پھینکی اور جان بچانے کی غرض سے فوری طور پر گھر کے اندر داخل ہوگئے۔ فائرنگ کی آواز اور ان کے شور و واویلے پر گواہان اور مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے، تاہم نامعلوم موٹر سائیکل سوار رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ اوچ شریف پولیس نے مقدمہ درج کرکے نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے۔
صحافی برادری سراپا احتجاج، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
سٹی پریس کلب اوچ شریف کے جنرل سیکرٹری محمد عابد خان مستوئی پر فائرنگ کے واقعے پر اوچ شریف سمیت ضلع بھر کی صحافی برادری میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ صحافی تنظیموں اور مقامی صحافیوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی پر مبینہ قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے اصل محرکات سامنے لائے جائیں۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صحافی بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد گھروں کو واپس جاتے ہوئے محفوظ نہیں تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ حکومت اور پولیس حکام صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور محمد عابد خان مستوئی پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

