Advertisements

ٹرمپ کی شہباز شریف کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت: ایک سفارتی امتحان

Advertisements

اداریہ —– 21 جنوری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیے جانے کا بھی عندیہ دیتی ہے۔

Advertisements

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کو اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے، جو اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار، متوازن اور امن دوست ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے واضح مؤقف اختیار کرتا آیا ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ دفتر خارجہ نے ایک بار پھر اس اصولی مؤقف کو دہرایا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی یہ پالیسی وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت پر مبنی رہی ہے۔

تاہم اس پیش رفت کا دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرنا اور یہ مؤقف اختیار کرنا کہ اس حوالے سے اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، اس منصوبے کی عملی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر کسی امن منصوبے میں فریقِ بنیادی ہی شامل نہ ہو تو اس کی کامیابی مشکوک ہو جاتی ہے۔

غزہ اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جہاں بنیادی سہولیات، طبی امداد، خوراک اور تعمیرِ نو فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی عالمی اقدام کی کامیابی کا دارومدار خلوصِ نیت، غیر جانبداری اور تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت پر ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ دعوت ایک سفارتی امتحان بھی ہے۔ اس میں شمولیت کا فیصلہ کرتے وقت قومی مفادات، اصولی مؤقف اور فلسطینی عوام کے جذبات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہوگا۔ پاکستان کو ایسے کسی بھی فورم کا حصہ بننا چاہیے جو حقیقی امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی کا ضامن ہو، نہ کہ محض سیاسی نمائشی اقدام۔

یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ فلسطین کو طاقت کے بجائے انصاف کی بنیاد پر حل کرے۔ اگر غزہ کے لیے قائم کیا جانے والا بورڈ واقعی انسانی امداد، تعمیر نو اور امن کے قیام میں سنجیدہ کردار ادا کرتا ہے تو پاکستان کا مثبت اور تعمیری کردار عالمی امن کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

بصورتِ دیگر، ایسے کسی بھی اقدام سے دوری ہی پاکستان کی دیرینہ اصولی پالیسی کے عین مطابق ہوگی