Advertisements

ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو پاگل شخص قرار دے دیا

Trump Labels Israeli Prime Minister, Who Continues Aggression on Lebanon, a 'Crazy Person'
فوٹو: فائل
Advertisements

امریکی صدر نے جتایا کہ انہوں نےکرپشن ٹرائل میں نیتن یاہو کو جیل سے باہر رکھنے میں کیسے مدد کی تھی۔بولے اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں، ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے اور ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق دوران گفتگو صدر ٹرمپ ایک بار شدید طیش میں آکر چلا اٹھے کہ تم کیا احمقانہ کام کررہے ہو۔

Advertisements

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر جارحیت جاری رکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو پاگل شخص قرار دے دیا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر سخت لہجے میں بات کی اور لبنان میں جارحیت جاری رکھنے پر وہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ انتہائی بدزبانی سےپیش آئے۔

تلخ لہجے کا پس منظر بتاتے ہوئے امریکی نیوز ویب سائٹ نے تسلیم کیا کہ وجہ یہ تھی کہ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملےجاری رہنے کی صورت میں امریکا سے بات چیت روکنے کی دھمکی دیدی تھی۔ ویب سائٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو پاگل کےساتھ ساتھ ناشکرا بھی کہا۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ بیروت پر حملے نہیں ہونے چاہیں اور خبردار کیا کہ اسرائیل نے یہ اقدام کیا تو وہ دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا۔ ویب سائٹ کے مطابق امریکی صدر نے جتایا کہ انہوں نےکرپشن ٹرائل میں نیتن یاہو کو جیل سے باہر رکھنے میں کیسے مدد کی تھی۔بولے اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں، ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے اور ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے۔ نیوز ویب سائٹ کے مطابق دوران گفتگو صدر ٹرمپ ایک بار شدید طیش میں آکر چلا اٹھے کہ تم کیا احمقانہ کام کررہے ہو۔ امریکی اہلکار نے نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے نزدیک نیتن یاہو جارحیت کو غیرمعمولی تناسب سےبڑھا رہے ہیں۔ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں بڑی تعداد میں شہریوں کو قتل کیا ہے اور صرف ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کی خاطر رہائشی عمارتوں پر عمارتیں تباہ کی جارہی ہیں۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ یوں تو صدرٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان کئی بارتلخ جملوں کا تبادلہ ہوچکا ہے مگر دوسری بارصدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈٹرمپ کی یہ اسرائیلی وزیراعظم کو بدترین ٹیلی فون کال تھی۔  جواب میں نیتن یاہو اوکے، اوکے کہتے رہے اور یہ کہ بس یہ یقینی بنائیں کہ ہر بات کا خیال رکھا جائے۔  واضح رہے کہ ایران کی طرف سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا تھا اور ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔

 ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔  ٹرمپ کے مطابق اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔