Advertisements

ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے مؤخر کردیئے

Trump delays Iran power grid strikes, Tehran rejects claim of negotiations
Advertisements

امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل

 امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔

Advertisements

۔واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کردیئے۔– ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان “بہت اچھی اور نتیجہ خیز گفتگو” ہوئی، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق ان تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کے تناظر میں انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مجوزہ تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے جائیں، جبکہ اس دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مزید پیش رفت متوقع ہے۔ مزید برآں فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، معاہدہ آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے کہ ایران کے معاملے کو حل کرلیا جائے گا،ایران 47 سال سے خطرہ تھا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اگر ڈیل ہوئی تو خطے اور ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کو ابنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح سات بجے ختم ہو گیا، ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔