پاکستان سے افغان صحافیوں کی بے دخلی فوری روکی جائے: عالمی صحافتی تنظیموں کا مطالبہ
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور فری پریس اَن لمیٹڈ کی حکومت پاکستان سے گرفتار صحافیوں کی رہائی اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل
اسلام آباد: تین بین الاقوامی صحافتی آزادی کی تنظیموں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں مقیم افغان صحافیوں کی گرفتاری، ہراسانی اور جبری بے دخلی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور فری پریس اَن لمیٹڈ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کیے گئے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پناہ لینے والے افغان صحافیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک باعثِ تشویش ہے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان صحافیوں کی من مانی گرفتاریوں، حراست، ہراسانی اور جبری ملک بدری کو فوری طور پر روکا جائے اور ایسے تمام صحافیوں کو رہا کیا جائے جنہیں صرف شہریت یا سفری دستاویزات کے مسائل کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔
تنظیموں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت “نان ریفاؤلمنٹ” کے اصول کا احترام کرے، جس کے مطابق کسی بھی فرد کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان، آزادی یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افغان صحافی افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد شدید خطرات، دھمکیوں اور پابندیوں کے باعث اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پاکستان میں پناہ لی، تاہم اب وہ یہاں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد افغان صحافیوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ بعض کو زبردستی افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے، جس سے ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تنظیموں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان افغان صحافیوں کے لیے عارضی تحفظ کا ایک جامع نظام وضع کرے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو تیسرے ممالک میں منتقلی کے منتظر ہیں۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، لہٰذا پاکستان کو اپنے آئینی اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پاکستان کو عارضی پناہ گاہ کے طور پر اختیار کیا، تاہم ویزا مسائل اور سست روی کا شکار بین الاقوامی منتقلی کے عمل کے باعث ان میں سے کئی اب تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

