Advertisements

پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات ختم، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان

Talks between the government and Jamaat-e-Islami on petroleum levy ended; march on Islamabad announced for September 20.
Advertisements

پالیسی ریٹ تین فیصد کم کرنے سے سیکڑوں ارب کی بچت ہوگی، پانچ ریفائنریز کو بغیر وجہ کے منافع دیا جا رہا ہے، جو وزارتیں صوبوں کو جا چکی ہیں وہ وفاق میں کیوں موجود ہیں۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ

اسلام آباد: پنجاب ہاؤس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے حوالے سے مذاکرات ختم ہوگئے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے عوامی مسائل کے لیے مسلسل محنت کے ساتھ عوام کو متحرک کیا ہے، احتجاج پرامن آئینی جمہوری طریقہ ہے۔

Advertisements

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی پی پیز پر بھی ہم نے مذاکرات کیے، آئی پی پیز پر بھی حکومت نے پہلے انکار کیا، جب ہم نے دلائل دیئے تو انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کو ریوائز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کی بات درست تھی، پٹرولیم لیوی بھتے کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج ملک بھر میں جاری ہے، آج 45 مقامات پر دھرنے اور احتجاج جاری ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسی احتجاج کی بنیاد پر حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی، حکومتی وفد منصورہ آیا اور کہا کہ وہ کھلے دل سے مذاکرات چاہتے ہیں، آج مذاکرات کا چوتھا دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ آپ نے عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کیا، ہمارے دباؤ پر عوام کو ریلیف ملے ہمیں خوشی ہوگی لیکن اس طریقے سے عوام کو ریلیف نہیں ملے گا۔

لیاقت بلوچ کے مطابق اس سکیم میں ڈیزل پر انحصار کرنے والے شعبے کو نظر انداز کیا گیا، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم کسی ریلیف کا کریڈٹ لیں، حکومتی وفد نے تسلیم کیا کہ ہمیں کوئی بھی ریلیف کا اقدام اٹھانے سے پہلے مشاورت کرنا چاہیے تھی۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج ہم نے واضح کہہ دیا ہے کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آپ آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ تین فیصد کم کرنے سے سیکڑوں ارب کی بچت ہوگی، پانچ ریفائنریز کو بغیر وجہ کے منافع دیا جا رہا ہے، ہم نے کہا ہے کہ جو وزارتیں صوبوں کو جا چکی ہیں وہ وفاق میں کیوں موجود ہیں۔

لیاقت بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بلیک میل کرنے کے لیے عوام کو ریلیف سے محروم کیا جا رہا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا دھندا بن گیا ہے، بنیادی مسئلہ بیڈ گورننس اور حکومت کے اللوں تللوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام چیزیں دلائل کے ساتھ پیش کی ہیں، حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ہم سے وقت مانگ رہے ہیں، ہم نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ ہماری اسلام آباد مارچ کی کال حتمی ہے۔