سید سرفراز حسین زیدی: آزادیٔ صحافت کی جدوجہد کا روشن استعارہ
اداریہ — 27 جنوری 2026
گزشتہ روز احمد پور شرقیہ کی صحافتی برادری نے ایک باوقار اور پُراثر تعزیتی ریفرنس کے ذریعے مرحوم سید سرفراز حسین زیدی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جو احمد پور یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر کی حیثیت سے نہایت فعال اور اصول پسند صحافی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تعزیتی ریفرنس میں صحافتی تنظیموں، پریس کلب اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر احسان احمد سحر نے کی، جنہوں نے مرحوم کی صحافتی خدمات، جرات مندانہ طرزِ عمل اور آزادیٔ اظہار کے لیے ان کی جدوجہد کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
سید سرفراز حسین زیدی ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے محدود وسائل، دباؤ اور مشکلات کے باوجود حقائق پر مبنی صحافت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ نہ صرف صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے بلکہ نوجوان صحافیوں کی رہنمائی اور مقامی صحافت کے استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی سلسلے میں رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی جانب سے ایک اہم اور قابلِ تحسین اعلان سامنے آیا، جس کے تحت مرحوم سید سرفراز حسین زیدی کو بعد از وفات صادق پریس فریڈم کیش ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اعزاز آزادیٔ صحافت کے فروغ اور صحافتی اصولوں پر ثابت قدم رہنے والے صحافیوں کے لیے ایک باوقار اعتراف ہے۔
یہ کیش ایوارڈ دراصل اس امر کی علامت ہے کہ وہ صحافی جو دیہی اور علاقائی سطح پر خاموشی سے سچ کی خدمت کرتے ہیں، ان کی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آر ایم این پی کا یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ آزادیٔ صحافت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ ہر اس علاقے میں اہم ہے جہاں صحافی عوام کی آواز بنتا ہے۔
موجودہ حالات میں، جب ملک بھر میں صحافت کو مختلف نوعیت کے دباؤ اور خطرات کا سامنا ہے، ایسے ایوارڈز نہ صرف حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ صحافی برادری کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ حق گوئی آج بھی قابلِ قدر ہے۔
تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرحوم سید سرفراز حسین زیدی کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا اور صحافتی اقدار کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ دیانت دار، نڈر اور عوام دوست صحافت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔
یہ اداریہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ صحافت افراد سے آگے بڑھ کر ایک روایت کا نام ہے، اور سید سرفراز حسین زیدی اسی روایت کا روشن باب تھے۔ ان کی یاد اور ان کے نظریات آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔

