بجلی اور سوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بلوں میں شامل بھاری ٹیکسز شہریوں میں شدید تشویش
عوام مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی سطح پر فضول خرچیاں اور غیر ضروری مراعات ختم نہیں کی جا رہیں شہریوں کا سروے میں اظہار خیال
جن پور ( نامہ نگار )بجلی اور سوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بلوں میں شامل بھاری ٹیکسز کے باعث شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے الیکشن سے قبل موجودہ حکمرانوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے تین سو یونٹ تک بجلی مفت دینے علان کیا تھا تاہم شہریوں کے مطابق موجودہ حالات میں جیسے ہی بجلی کے دو سو یونٹ مکمل ہوتے ہیں تو بلوں میں اچانک نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے متوسط اور غریب طبقے کے لیے بل ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سوئی گیس کے بلوں میں بھی 90 یونٹ سے اوپر جاتے ہی بل عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں
ان خیالات کا اظہار شہریوں سید ظہیر احمد بابر شاہ، سید لطف جہانیاں ایڈووکیٹ، نعمان سعید خان گبول ایڈووکیٹ، قاضی حسین احمد خان گبول، سردار ملک امتیاز احمد نائچ ایڈووکیٹ، خان محمد پھٹان، سید منصور عابد بخاری، رانا ہارون عباس، حق نواز خان لنگاہ، ملک کاشف صمد آرائیں، مہر سہیل احمد سیال اور مخدوم سید حسن جہانیاں بخاری نے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک طرف عوام مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومتی سطح پر فضول خرچیاں اور غیر ضروری مراعات ختم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر واقعی کفایت شعاری کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز حکمران طبقے سے ہونا چاہیے بجلی اور سوئی گیس کے بلوں میں شامل بے تحاشا ٹیکسز اور فکسڈ چارجز ختم کیے جائیں اور عوام کو فوری ریلیف دیا جائے

