Advertisements

مشرق وسطیٰ جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز مستحکم نہیں رہے گا، چینی وزیرخارجہ

Chinese Foreign Minister Wang Yi arrives in Islamabad for three-day official visit
Advertisements

کسی بھی ملک کو انفرادی طور پر بحری راستوں پر کنٹرول یا لیوی کی شرط نہیں رکھنی چاہیے، چین اور جرمنی کا اتفاق

 چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز مستحکم نہیں ہوگا۔  غیرملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ہے اور اس حوالے سے میں یورپی یونین، جرمن اور سعودی عرب کے ہم مناصب سے بات کی ہے۔  انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کردار اس تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مؤثر ہونا چاہیے۔

Advertisements

 چینی وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے اثرات ہیں اورآبنائے ہرمز اس وقت تک مستحکم نہیں رہے گی جب تک جنگ جاری رہے گی-  رپورٹ کے مطابق چینی وزیرخارجہ نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔  اس سے قبل جرمنی کے وزیرخارجہ نے وانگ یی سے بات کی اور دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز کی بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔  جرمنی کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جرمنی اور چین آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حمل کی بحالی چاہتے ہیں اور اتفاق کیا کہ کسی بھی ملک کو انفرادی طور پر بحری راستوں پر کنٹرول یا یہاں سے گزرنے کے لیے لیوی کی شرط نہیں رکھنی چاہیے۔  بیان میں کہا گیا کہ چین مذاکراتی حل اور خلیجی ممالک کے خلاف کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کو آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثروسوخ استعمال کرے گا