Advertisements

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے

President Asif Ali Zardai
Advertisements

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے سے قبل پختونخوا حکومت کو مولانا فضل الرحمان کے ذریعے ایک آخری موقع بھی دیا تاہم مذاکرات یہ آخری کوشش ناکام ہوگئی۔

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کی منظوری دے دی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، سالک حسین اور عطاء تارڑ سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔ وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،

Advertisements

کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں، اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی جس پر نےصدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے

ذرائع کے کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے سے قبل پختونخوا حکومت کو مولانا ففضل الرحمان کے ذریعے ایک آخری موقع بھی دیا تاہم مذاکرات یہ آخری کوشش ناکام ہوگئی۔ قبل ازیں اجلاس میں تجویز دی گئی تھی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے، اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرکے مشاورت کی۔

وفاقی کابینہ نے خیبر پختنوخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، کابینہ ارکان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ شاہراہِ دستور پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئی ہیں۔