جنوبی ایشیا کے میڈیا گروپس کا صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی، بنگلہ دیش اور نیپال میں میڈیا پر حملوں کی شدید مذمت، ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ
ساوتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک، ساوتھ ایشیا میڈیا ڈیفینڈرز نیٹ ورک (سامڈن)، ساپن نیوز، رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان سمیت دیگر علاقائی میڈیا تنظیموں کا مشترکہ مؤقف
— جنوبی ایشیا کے مختلف میڈیا گروپس اور صحافتی نیٹ ورکس نے صحافیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش اور نیپال میں میڈیا اداروں اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں، توڑ پھوڑ اور تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ذمہ دار عناصر کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان ساوتھ ایشیا میڈیا ڈیفینڈرز نیٹ ورک (سامڈن) کی جانب سے نئی دہلی سے موصول ہوا ہے، جس کی تائید ساوتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک، ساپن نیوز، رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان اور خطے کی دیگر صحافتی تنظیموں سے وابستہ صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈھاکہ میں معروف اخبارات کے دفاتر پر حملے، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہیں، جبکہ ایڈیٹرز کونسل کے صدر، سینئر صحافی اور ایک قومی اخبار کے مدیر پر جسمانی تشدد نہایت قابلِ مذمت ہے۔
میڈیا گروپس نے پریس کلب آف انڈیا اور کراچی پریس کلب کی جانب سے ان واقعات پر گہری تشویش اور سخت مذمتی بیانات کا خیرمقدم کیا ہے۔
بیان میں اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک سو سے زائد صحافیوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے حراست میں رکھا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام زیرِ حراست صحافیوں کو فوری اور بلا شرط رہا کیا جائے۔
بیان میں یاد دلایا گیا ہے کہ چند ماہ قبل نیپال میں بھی میڈیا ادارے ہجوم کے حملوں کا نشانہ بنے، جہاں اخبارات اور ٹیلی وژن اداروں کی عمارتوں پر حملے کیے گئے اور متعدد صحافیوں کو جسمانی اور آن لائن تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں کٹھمنڈو میں رپورٹنگ کے دوران ایک نوجوان فوٹو جرنلسٹ آتش زنی کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، تاہم تاحال ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کو خاموش کرانے کے لیے تشدد، دھمکیاں، حملے یا ہراسانی ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ اقدامات آزادیٔ صحافت، اظہارِ رائے کے آئینی حق اور قانون کی حکمرانی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
میڈیا گروپس نے متعلقہ حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آتش زنی، تشدد اور دھمکیوں کے تمام واقعات کی منصفانہ، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان کی تائید جنوبی ایشیا کے سینئر صحافیوں، مدیران، کالم نگاروں، مصنفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کی ہے، جن میں شامل ہیں:
بینا سرور، بانی مدیر ساپن نیوز اور ساوتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک کی شریک بانی؛
کانک مانی دکشت، بانی اور سابق مدیر ایک علاقائی جریدہ، کٹھمنڈو؛
سنجوئے ہزاریکا، آزاد کالم نگار اور مصنف؛
دلروکشی ہندن نیتی، تحقیقی صحافی اور وکیل، سری لنکا؛
نروپما سبرامنیم، صحافی اور سابق مدیر، چنئی؛
فرمان علی، چیف ایڈیٹر ایک علاقائی اخبار اور سابق نیوز ایڈیٹر، اسلام آباد؛
حسین نقی، سینئر صحافی اور سابق مدیر، لاہور؛
انترا دیو سین، بانی مدیر ایک ادبی جریدہ، نئی دہلی؛
بالا چوہان، سینئر مدیر، نئی دہلی؛
طاہرہ عبداللہ، جمہوریت اور انسانی حقوق کی کارکن، اسلام آباد؛
انورا دھا بھاسن، منیجنگ ایڈیٹر، کشمیر؛
امیت سین گپتا، مدیر ایک آزاد نیوز ویب سائٹ، نئی دہلی؛
عصمت اللہ نیازی، براڈکاسٹ صحافی، اسلام آباد؛
باچی کرکاریا، کالم نگار، ممبئی؛
وینیتا پانڈے، سینئر مدیر، نئی دہلی؛
نیتا کولہاٹکر، صحافی، ممبئی؛
مونیدیپا بنرجی، صحافی، کولکتہ؛
دیپال ترویدی، آزاد صحافی، احمد آباد؛
مایا شرما، آزاد صحافی، بنگلورو؛
اسٹیلا پال، صحافی، حیدرآباد؛
پامیلا فلپوز، صحافی، نئی دہلی؛
وجاہت مسعود، براڈکاسٹ صحافی، لاہور؛
نیاز مرتضیٰ، صحافی، اسلام آباد؛
نیلووا رائے چوہدری، آزاد صحافی، نئی دہلی؛
رادھیکا رام سیشن، سیاسی صحافی اور کالم نگار، نئی دہلی۔

