Advertisements

سندھ حکومت کا فیک نیوز کی روک تھام کے لیے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی سے مدد لینے کا فیصلہ

Sindh government decides to seek help from the National Cyber Crime Investigation Agency to curb fake news.
Advertisements

جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے کسی بھی شخص یا ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی، شرجیل میمن

کراچی: سندھ حکومت نے فیک نیوز کی روک تھام کے لیے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی) سے مدد لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکریٹری اطلاعات اور محکمہ اطلاعات کے تمام شعبوں کے ڈائریکٹرز کو فیک نیوز کی مانیٹرنگ اور مؤثر میڈیا حکمت عملی بنانے کی ہدایت کر دی گئی۔

Advertisements

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات کا اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری اطلاعات کاشف گلزار شیخ، ڈی جی اطلاعات معز پیرزادہ اور تمام ڈائریکٹرز شریک ہوئے۔ شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے کسی بھی شخص یا ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ سینیئر وزیر نے حکم دیا کہ فیک نیوز اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے معاونت لی جائے، مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فیک نیوز کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے گی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کی نشاندہی، تصدیق اور بروقت تدارک کے لیے محکمہ اطلاعات میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے گا۔ فیک نیوز کے تدارک کے لیے محکمہ اطلاعات اور این سی سی آئی اے کے درمیان تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیک نیوز بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے این سی سی آئی اے سے معاونت حاصل کی جائے گی۔ سندھ حکومت کا بیانیہ امن، رواداری، بین الصوبائی ہم آہنگی اور قومی اتحاد پر مبنی ہے۔ مقامیخدمات حاصل کریں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے بیانیے کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں، محکمہ اطلاعات سندھ حکومت کے مثبت اور تعمیری بیانیے کو مزید اجاگر کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کرے۔ سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ تمام طبقات کے نمائندوں کو سندھ حکومت کے بیانیے کا حصہ بنایا جائے، محکمہ اطلاعات فیک نیوز کی مانیٹرنگ کے ساتھ سندھ حکومت کے مثبت بیانیے کی مؤثر ترویج پر بھی توجہ دے