بجلی کے نئے میٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عوام کے لیے نیا کنکشن خواب بن گیا
چند ماہ قبل آٹھ ہزار روپے میں لگنے والا بجلی کا میٹر اب مختلف مدات ملا کر تقریباً چالیس ہزار روپے میں پڑ رہا ہے, میپکو کا نیا طریقہ کار شہریوں کے لیے وبالِ جان، شدید احتجاج
چنی گوٹھ (نامہ نگار) میپکو میں بجلی کے نئے میٹر کا حصول عوام کے لیے شدید اذیت بن چکا ہے۔ چند ماہ قبل آٹھ ہزار روپے میں لگنے والا بجلی کا میٹر اب مختلف مدات ملا کر تقریباً چالیس ہزار روپے میں پڑ رہا ہے، جس کے باعث عام شہری، دیہاڑی دار اور غریب طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میپکو کے نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو بجلی کا میٹر بازار سے تقریباً بائیس ہزار روپے میں خود خریدنا پڑتا ہے، جبکہ اس کے علاوہ میپکو کی جانب سے جاری کردہ ڈیمانڈ نوٹس کی فیس بھی الگ سے ادا کرنا ہوتی ہے۔ مزید برآں میٹر میں سم ڈلوانے اور دیگر تکنیکی و دفتری کارروائیوں کے لیے صارفین کو بار بار دفاتر کے .چکر لگانا پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ اضافی اخراجات کا بوجھ بھی عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے اس دور میں بجلی کے نئے کنکشن کا حصول عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
متاثرہ صارفین نے اس صورتحال کو سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ بجلی کے نئے میٹر لگوانے کا پرانا، آسان اور کم خرچ طریقہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔اہل علاقہ نے اعلیٰ حکام، وزارتِ توانائی اور میپکو انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ میٹر کی قیمتوں میں کمی کی جائے، غیر ضروری دفتری مراحل ختم کیے جائیں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

