Advertisements

سید سرفراز حسین زیدی کا انتقال — صحافت کے ایک روشن عہد کا خاتمہ

Advertisements

اداریہ — 22 جنوری 2026

احمد پور شرقیہ کی صحافتی تاریخ ایک نہایت افسوسناک اور المناک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سینیئر صحافی، احمد پور یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر اور اصولی صحافت کی روشن علامت سید سرفراز حسین زیدی کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ اس باوقار اور جدوجہد سے بھرپور عہد کا خاتمہ ہے جس میں صحافت کو ذاتی مفاد نہیں بلکہ سماجی امانت سمجھا جاتا تھا۔

Advertisements

مرحوم ایک ایسے صحافی تھے جنہوں نے حق گوئی، دیانت اور پیشہ ورانہ وقار کو ہمیشہ اپنی شناخت بنائے رکھا۔ مشکل ترین حالات، معاشی دباؤ اور مختلف نوعیت کے خطرات کے باوجود انہوں نے قلم کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ وہ صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری اور جمہوری اقدار کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

سید سرفراز حسین زیدی مرحوم مدیرِ روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ احسان احمد سحر کے قریبی رفیقِ کار اور دیرینہ ساتھی تھے۔ دونوں نے طویل عرصے تک علاقائی صحافت کے فروغ، صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے مشترکہ جدوجہد کی۔ ان کی رفاقت ذاتی تعلق سے بڑھ کر ایک نظریاتی وابستگی تھی جو اصولی صحافت کی بنیاد پر قائم رہی۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ میں صحافیوں، وکلا، سماجی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ ایک معتبر سماجی آواز تھے۔ انہیں قبرستان عظمت سلطان میں سپردِ خاک کیا گیا، مگر ان کی صحافتی خدمات اور جدوجہد اہلِ قلم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کی مرکزی قیادت، اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ تعزیتی بیان میں سید سرفراز حسین زیدی مرحوم کو ایک نڈر، کارکن اور اصول پسند صحافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی وفات سے ملک کی صحافتی تحریک ایک مخلص رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔ پی ایف یو جے نے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو قابلِ قدر خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مرحوم کے صاحبزادے سید اویس زیدی، جو بطور کورٹ رپورٹر فرائض انجام دے رہے تھے، کو کرپشن سے متعلق خبر شائع کرنے کے بعد فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ آج بھی اس تلخ سچائی کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سچ بولنے کی قیمت اب بھی خطرات اور قربانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں سید سرفراز حسین زیدی جیسے صحافیوں کا کردار مزید نمایاں ہو جاتا ہے، جنہوں نے خوف کے ماحول میں بھی قلم کا وقار بلند رکھا۔

مرحوم کی زندگی اس امر کی گواہ ہے کہ صحافت اگر کردار، دیانت اور عوامی وابستگی سے خالی ہو جائے تو محض پیشہ رہ جاتی ہے، اور اگر ان اقدار سے جڑی رہے تو تاریخ بن جاتی ہے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔

پریس کلب احمد پور شرقیہ اور احمد پور یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا تعزیتی ریفرنس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مرحوم کی خدمات کو محض رسمی الفاظ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے مشن—آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ وقار—کو عملی صورت میں آگے بڑھایا جائے۔

روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ مرحوم سید سرفراز حسین زیدی کی صحافتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔