Advertisements

سینیٹ کمیٹی کا سائبر کرائم شکایات میں تاخیر پر نوٹس، این سی سی آئی اے سربراہ 17 جولائی کو طلب

Senate Pakistan
Advertisements

آن لائن شکایتی نظام، کارروائی میں تاخیر اور ادارہ جاتی کارکردگی پر بریفنگ طلب، شہریوں کے حقوق کے مؤثر تحفظ پر زور

اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سائبر کرائم شکایات کے ازالے میں تاخیر اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کو 17 جولائی کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔

Advertisements

چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت اجلاس میں سائبر کرائم شکایات، آن لائن شکایتی پورٹل کی کارکردگی، لاہور کے رہائشی احمد جاوید کے قتل کیس اور توہین مذہب سے متعلق مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔

اراکین کمیٹی نے شکایات نمٹانے میں تاخیر اور آن لائن پورٹل میں تکنیکی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر قرت العین مری اور سینیٹر رانا محمود الحسن نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف مہمات اور متعلقہ ادارے کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی۔

این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ تکنیکی اور انتظامی مسائل کے باعث آن لائن نظام متاثر ہوا، تاہم تحریری شکایات بھی فوری کارروائی کے لیے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق قابل اعتراض آن لائن مواد کو بلاک یا محدود کرنے کی کارروائی عموماً 15 روز کے اندر مکمل کی جاتی ہے جبکہ شکایتی پورٹل کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو تکنیکی مسائل یا ادارہ جاتی غفلت کے باعث انصاف سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ کمیٹی نے این سی سی آئی اے کے سربراہ کو ہدایت کی کہ وہ 17 جولائی کو آن لائن شکایتی پورٹل، شکایات کے ازالے میں تاخیر، ادارہ جاتی ردعمل اور اصلاحی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کریں۔

اجلاس میں احمد جاوید قتل کیس کی پیش رفت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ پنجاب کے سیکریٹری داخلہ نے توہین مذہب سے متعلق مقدمات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے مقدمات کے جائزے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی جا چکی ہے اور بین الادارہ جاتی رابطہ کار نظام کو بھی مؤثر بنایا جا رہا ہے۔