سینیٹ کمیٹی کی ہدایات: کیا میڈیا ورکرز، علاقائی اخبارات اور پیکا کے نفاذ سے متعلق سفارشات پر عملدرآمد ہوگا؟
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کی خصوصی تجزیاتی رپورٹ
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں میڈیا ورکرز کے تحفظ، علاقائی اخبارات کی سرپرستی، سرکاری اشتہارات کی شفاف تقسیم، ادارہ جاتی اصلاحات اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارروائیوں سے متعلق ہونے والی اہم سفارشات نے پاکستان کی صحافتی برادری میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے نزدیک یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے تنظیم مسلسل علاقائی صحافت، دیہی میڈیا، صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار سے متعلق انہی مسائل کو اجاگر کرتی آرہی ہے۔
علاقائی اخبارات کی اہمیت کا اعتراف
قائمہ کمیٹی کی جانب سے علاقائی اخبارات کو درپیش مشکلات کا اعتراف خوش آئند ہے۔ پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے شائع ہونے والے اخبارات مقامی حکومت، تعلیم، صحت، زراعت، دیہی ترقی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، مگر انہیں محدود وسائل، بڑھتے ہوئے اخراجات، سرکاری اشتہارات میں کمی اور ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کو علاقائی اخبارات کے فروغ اور تحفظ کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر اور بروقت عملدرآمد پر ہوگا۔
سرکاری اشتہارات کی منصفانہ تقسیم
حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت اور جدید نظام متعارف کرانے کا اعلان قابلِ ستائش ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس عمل میں علاقائی اور چھوٹے اخبارات کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔
صرف ویب ٹریفک یا ڈیجیٹل اعدادوشمار کو بنیاد بنانے کے بجائے ان اخبارات کی عوامی خدمت، مقامی رسائی اور قومی بیانیے میں کردار کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود
قائمہ کمیٹی نے میڈیا ملازمین کی تنخواہوں، ملازمت کے تحفظ، ای او بی آئی رجسٹریشن، لائف انشورنس اور دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے کارکنوں کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت جیسے اہم معاملات پر بھی توجہ دی۔
یہ سفارشات نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والے ہزاروں صحافیوں اور دیگر کارکنوں کے لیے امید کی کرن بھی ہیں۔
تاہم ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف سفارشات کافی نہیں ہوتیں۔ ان پر مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ میڈیا ادارے اپنے ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
پیکا اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے سے اہم پیش رفت
اجلاس کا سب سے اہم پہلو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارروائیوں پر ہونے والی بحث تھی۔
قائمہ کمیٹی نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض اخبارات اور اخباری کالم نگاروں کو نوٹس جاری کیے گئے، حالانکہ کمیٹی کے ارکان کے مطابق ایسی کارروائیاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قانونی دائرۂ اختیار میں نہیں آتیں۔
کمیٹی نے واضح ہدایت دی کہ اخبارات اور ان کی ویب سائٹس کے خلاف ایسی کارروائی نہ کی جائے جو ادارے کے قانونی مینڈیٹ سے باہر ہو، جبکہ پیکا کے تحت صوبوں سے منتقل ہونے والے مقدمات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی۔
یہ ہدایات اس تناظر میں نہایت اہم ہیں کہ حالیہ برسوں میں پیکا قانون کے اطلاق اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر صحافتی تنظیموں اور آزادیٔ اظہار کے حامی اداروں نے بارہا تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کیا سفارشات پر عمل ہوگا؟
================
اگرچہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات اہمیت کی حامل ہیں، لیکن اصل سوال یہی ہے کہ کیا متعلقہ وزارتیں اور ادارے ان پر مؤثر عملدرآمد کریں گے؟
پارلیمانی نگرانی جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے، مگر حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہوگی جب سفارشات عملی اقدامات، واضح پالیسیوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کی صورت اختیار کریں۔
سینیٹر سرمد علی کا کردار
================
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اجلاس کی صدارت سینیٹر سرمد علی نے کی، جو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر اور پاکستان کے ممتاز میڈیا ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔
اخباری صنعت میں ان کے طویل تجربے کے باعث انہیں پرنٹ میڈیا، علاقائی اخبارات اور صحافتی اداروں کو درپیش معاشی و پیشہ ورانہ مسائل کا گہرا ادراک حاصل ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی سربراہی میں علاقائی اخبارات اور میڈیا ورکرز کے مسائل کو پارلیمانی سطح پر سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جاتا رہے گا۔
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کا مؤقف
=======================
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے علاقائی اخبارات، میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود، سرکاری اشتہارات میں شفافیت اور پیکا کے منصفانہ اطلاق سے متعلق سفارشات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
تاہم رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان سفارشات کی کامیابی کا اصل معیار ان پر مؤثر عملدرآمد ہوگا۔
تنظیم آئندہ بھی علاقائی صحافت کے فروغ، دیہی میڈیا کے استحکام، صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور پیکا قانون کے منصفانہ نفاذ سے متعلق پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطہ برقرار رکھے گی تاکہ پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور مضبوط صحافت کو فروغ دیا جا سکے۔
ادارتی نوٹ
رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے آزادیٔ صحافت، علاقائی اخبارات کے استحکام اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تنظیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو مثبت پیش رفت قرار دیتی ہے، تاہم اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان سفارشات کے عملی نتائج ہی ان کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ ہوں گے۔ RMNP علاقائی اخبارات، سرکاری اشتہارات کی پالیسی، میڈیا ورکرز کی فلاح اور پیکا قانون کے نفاذ سے متعلق آئندہ پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرتا رہے گا۔

