اسکرین , نوجوان اور زندگی کے حقیقی تقاضے
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر سجاد احمد پراچہ چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکیشن و چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف سائیکالوجی یونیورسٹی آف سدرن پنجاب ملتان
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹی وی اور سوشل میڈیا کو محض معلومات اور تفریح کے لئے دیکھتے ہیں، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اسکرینیں نہ صرف ہمیں معلومات اور تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہمارے دیکھنے، سوچنے اور دنیا کو سمجھنے کے انداز کو بھی تشکیل دیتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی خیال ہے جسے جارج جربنر نے 1976 میں کلٹیویشن تھیوری کی صورت میں پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق میڈیا کا مسلسل اور طویل استعمال ناظرین کے ذہن میں ایک مخصوص سماجی حقیقت پیدا کر دیتا ہے، اور یوں زیادہ اور کم میڈیا استعمال کرنے والوں کے نقطۂ نظر میں واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
کلٹیویشن تھیوری یہ بتاتی ہے کہ انسانی رائے صرف عمر، جنس، تعلیم یا سماجی و اقتصادی پس منظر سے ہی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ میڈیا کا مسلسل اثر بھی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال یوں ہے کہ تحقیق کے دوران امریکی خواتین سے پوچھا گیا کہ اگر رات کو اکیلے گھر لوٹنا پڑے تو کیا انہیں خوف محسوس ہوتا ہے؟ زیادہ ٹی وی دیکھنے والی خواتین کی اکثریت نے خوف کا اظہار کیا، جبکہ کم ٹی وی دیکھنے والی خواتین نے ایسی کسی تشویش سے انکار کیا۔ اس فرق نے یہ واضح کیا کہ اسکرین پر دکھائی جانے والی دنیا ناظرین کے ذہن میں حقیقی دنیا کا تصور تشکیل دینے لگتی ہے۔
یہی عمل ہمارے معاشرے میں بھی نمایاں ہے۔ ٹی وی ڈراموں میں متوسط طبقے کو غیر معمولی آسائشوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، عام گھروں کو عالی شان محل بنا دیا جاتا ہے، شادیوں کو غیر حقیقی حد تک پرتعیش دکھایا جاتا ہے اور رشتوں کو جذباتی شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ناظرین خصوصاً نوجوان نسل زندگی کے لیے ایسے معیارات قائم کرنے لگتی ہے جو حقیقت سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ جب حقیقی زندگی ان توقعات سے مطابقت نہیں رکھتی تو مایوسی، بے چینی اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ نے اس اثر کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اب صرف ٹی وی نہیں بلکہ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، ویب سیریز اور الگورتھمز کے ذریعے بار بار دکھایا جانے والا مواد نوجوانوں کے ذہن میں ایک نئی دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی فوری نظر آتی ہے، شہرت آسان دکھائی دیتی ہے اور مشکلات کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ اس مسلسل تاثر کے نتیجے میں نوجوانوں کی ایک تعداد سنجیدہ سماجی اور اقتصادی چیلنجز کے باوجود حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے بجائے یا تو بیرون ملک جانے کو واحد راستہ سمجھنے لگتی ہے یا کسی اچانک تبدیلی کی امید پر وقت گزارتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت اہم اقتصادی اور سماجی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ وسائل کی غیر مساوی تقسیم، سرمایہ کاری کے مسائل، خطے کی کشیدہ صورتحال اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ مگر جب اسکرین کی دنیا ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے تو نوجوانوں کی ترجیحات بھی بدلنے لگتی ہیں۔ یوں قیمتی وقت سوشل میڈیا کی مصروفیات میں گزرتا ہے جبکہ عملی مہارتوں کے حصول پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود پاکستان کی ڈیموگرافی ایک بڑی امید بھی فراہم کرتی ہے۔ ملک کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کی سطح پر مختلف منصوبے بھی اسی مقصد کے لیے شروع کیے جا تےہیں۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت, تعلیمی ادارے, اساتذہ ,طلبہ,اور والدین ایک مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھیں اور میڈیا کے اثرات کو سمجھتے ہوئے اپنی ترجیحات متعین کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان محض میڈیا کے صارف نہ رہیں بلکہ تخلیق کار بنیں۔ سوشل میڈیا کو وقت گزاری کے بجائے علم، تحقیق، ہنر اور مکالمے کے لیے استعمال کیا جائے۔ میڈیا لٹریسی کو فروغ دیا جائے تاکہ اسکرین پر دکھائی جانے والی دنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کو سمجھا جا سکے۔ کیونکہ جو حقیقت اسکرین بناتی ہے، اگر اسے بغیر سوچے قبول کر لیا جائے تو وہی حقیقت ہمارے فیصلوں کی بنیاد بن جاتی ہے۔
آج کا اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنی نوجوان نسل کو اسکرین کی بنائی ہوئی دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں یا انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ اپنی حقیقت خود تشکیل دیں۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو تعلیم، شعور اور مقصدیت سے آراستہ کر دیا تو یہی اسکرینیں ترقی کا ذریعہ بن جائیں گی۔ بصورت دیگر وہی اسکرینیں خواب دکھاتی رہیں گی اور حقیقت پیچھے رہ جائے گی۔

