”محفوظ پنجاب“ اور ضلع بہاولپور میں فائر سیفٹی کا نیا باب
اداریہ — 26 فروری 2026
مریم نواز شریف کے ویژن ”محفوظ پنجاب“ کے تحت ضلع بہاولپور میں فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا تیز رفتار عمل محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ شہری تحفظ کے ایک جامع تصور کا عملی اظہار ہے۔ گنجان آباد اور کمرشل علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی، بلند و بالا عمارات اور تجارتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ نے آتشزدگی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں پیشگی اقدامات ہی کسی بڑے سانحے سے بچاؤ کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سید حسن رضا کی جانب سے 28 فروری کے بعد ان تمام تجارتی مراکز اور عمارات کو سیل کرنے کی وارننگ، جنہوں نے فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کے لیے جاری کردہ نوٹسز پر عملدرآمد نہیں کیا، اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کو محض رسمی ہدایت نہیں سمجھتی بلکہ اسے قانون کے نفاذ اور انسانی جانوں کے تحفظ کا سنجیدہ تقاضا قرار دیتی ہے۔ یہ اقدام اس روایت کی نفی کرتا ہے جس میں نوٹسز تو جاری ہوتے ہیں مگر عملدرآمد کمزور رہتا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ کے اجلاس میں پیش کی گئی تفصیلات حوصلہ افزا ہیں۔ ضلع بھر میں 33 فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت، نئے ہائیڈرنٹس کی تنصیب، واسا اور میونسپل اداروں کی شمولیت، اور نجی عمارات کو ذمہ داری سونپنا ایک مربوط حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات دیرپا نگرانی، باقاعدہ تکنیکی جانچ اور سخت مانیٹرنگ کے بغیر مؤثر رہ سکیں گے؟ فائر سیفٹی محض تنصیب کا نام نہیں، بلکہ مسلسل فعالیت، پانی کی دستیابی، پریشر ٹیسٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس کی ہم آہنگی اس کا لازمی جزو ہیں۔
ریسکیو کی کارکردگی اور فوری رسپانس کا جائزہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی میں ابتدائی چند منٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اگر ہائیڈرنٹس فعال ہوں، رسائی کے راستے کھلے ہوں اور اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو تو نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ضلع بھر کے متعدد تجارتی مراکز میں حفاظتی آلات محض نمائشی حیثیت رکھتے ہیں۔ آگ بجھانے والے آلات کی میعاد، الارم سسٹم کی فعالیت اور ایمرجنسی اخراج کے راستوں کی دستیابی پر سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی سختی اسی وقت مؤثر ہوگی جب اس کے ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ تاجر برادری اس اقدام کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی سرمایہ کاری اور انسانی جانوں کے تحفظ کے طور پر دیکھے۔
ضلع بہاولپور میں ”محفوظ پنجاب“ کا عملی نفاذ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم کو وقتی جوش تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے مستقل نگرانی، شفاف رپورٹنگ اور بلاامتیاز قانون نافذ کرنے کی روایت سے جوڑا جائے۔ انسانی جان کا تحفظ کسی رعایت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر انتظامیہ اپنی سنجیدگی برقرار رکھتی ہے اور شہری تعاون کریں تو ضلع بہاولپور حقیقی معنوں میں ایک محفوظ ضلع بن سکتا ہے۔

