آر وائی کے شوگر ملز رکن آباد جن پور گزشتہ تین روز سے بند, زمینداروں اور کسانوں میں شدید اضطراب
اسسٹنٹ کمشنر لیاقت پور کانٹے (وزن) کے ایشو کو مبینہ بنیاد بنا کر شوگر مل کو سیل کیا. 1200 سے زائد گنے سے لدی ٹرالیاں مختلف شاہراہوں اور سڑکوں پر کھڑی ہیں،
زمینداروں نے شوگر مل کے مرکزی گیٹ پر پرامن احتجاج کیا ۔, آر وائی شوگر ملز رکن آباد جن پور کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے,مظاہرین کا مطالبہ
جن پور (نامہ نگار )آر وائی کے شوگر ملز رکن آباد جن پور گزشتہ تین روز سے بند پڑی ہے، جس کے باعث علاقے بھر میں زمینداروں اور کسانوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر لیاقت پور کی جانب سے کانٹے (وزن) کے ایشو کو مبینہ بنیاد بنا کر شوگر مل کو سیل کیا گیا، تاہم شوگر مل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ 31 دسمبر 2025 تک کی تمام واجب الادا ادائیگیاں زمینداروں کو مکمل طور پر کی جا چکی ہیں اور کوئی کٹوتی نہیں کی جا رہی تھی شوگر مل کی بندش کے باعث صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ اس وقت تقریباً 1200 سے زائد گنے سے لدی ٹرالیاں مختلف شاہراہوں اور سڑکوں پر کھڑی ہیں، جبکہ اسی کے برابر مقدار میں چھلا ہوا گنا کھیتوں میں پڑا خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ سڑکوں پر ٹرالیوں کے رش کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے اور کسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
زمینداروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی گنے کا سرکاری اور مناسب ریٹ نہیں مل رہا، اب اگر آر وائی شوگر ملز کی بندش طول پکڑ گئی تو گنے کا دباؤ بڑھنے سے دیگر شوگر ملیں اپنی مرضی کے نرخ مقرر کریں گی، جس کا براہِ راست نقصان کسان کو ہوگا۔کسانوں کے مطابق مل بند ہونے کی صورت میں انہیں طویل فاصلہ طے کر کے دوسری شوگر ملوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جس سے کیرج، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس تمام صورتحال کا فائدہ مڈل مین اور بااثر عناصر سمیٹ لیں گے، جبکہ محنت کش زمیندار مزید خسارے میں چلا جائے گا۔ ادھر زمینداروں سردار فیاض احمد خان چانڈیہ، حاجی محمد سلیم خان گبول، حاجی مشتاق احمد سیال، سردار حاجی امیر بخش خان دشتی، مہر محمد ارشد سیال، سید مختیار احمد رضوی، نمبردار مخدوم سید طارق حسین شاہ، عباس فاروق متڑہ، چوہدری عبدالغفور، ملک ساغر نائچ، ملک عرفان اجمل نائچ، ملک شجاعت نائچ حبیب اللہ خلیفہ عبدالخالق گھلو ملک ایاز احمد نائچ مہر جمیل احمد سیال و دیگر نے شوگر مل کے مرکزی گیٹ پر پرامن احتجاج کیا۔
احتجاجی زمینداروں کا کہنا تھا کہ تین دن سے شوگر مل بند ہونے کے باعث زمیندار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، گنا خراب ہو رہا ہے اور کسان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، کین کمشنر پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر وائی شوگر ملز رکن آباد جن پور کو فوری طور پر ڈی سیل کیا جائے تاکہ کسان مزید نقصان سے بچ سکیں۔ زمینداروں اور کسان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شوگر مل کو جلد بحال نہ کیا گیا تو نہ صرف گنا ضائع ہوگا بلکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اور معاشی استحکام شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

