سوئی ناردرن میں اربوں کی چوری: ادارہ جاتی بدعنوانی کا سنگین انکشاف
اداریہ — 29 جنوری 2026
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے اپنے ہی ملازمین کے 41 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے گیس پائپ چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف محض ایک مالی اسکینڈل نہیں بلکہ ہمارے سرکاری اداروں میں جڑ پکڑتی بدعنوانی، کمزور نگرانی اور ناقص احتسابی نظام کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ انکشاف پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارت نوید قمر کر رہے تھے، اور جس نے کئی تشویشناک سوالات کو جنم دیا ہے۔
آڈٹ حکام کے مطابق مانگا منڈی میں واقع سوئی ناردرن کے اسٹور سے ٹرکوں کے حساب سے گیس پائپ چوری کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو 41 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ چوری کسی بیرونی گروہ نے نہیں بلکہ ادارے کے اندر موجود افراد نے کی۔ یہی وجہ ہے کہ کمیٹی رکن شازیہ مری نے بجا طور پر اسے “ادارے کی اپنی چوری” قرار دیا، جو کہ معاملے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر سکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈ آفس کو رپورٹ کرتے تھے تو پھر اتنی بڑی مقدار میں سامان کیسے نکالا جاتا رہا؟ کیا نگرانی محض کاغذی کارروائی تھی؟ اور اگر سب کچھ علم میں تھا تو بروقت کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف چند معطلیوں یا انکوائریوں سے نہیں دیا جا سکتا۔
ایس این جی پی ایل حکام کے مطابق اب تک محدود ریکوری کی گئی ہے جبکہ ایف آئی اے نے متعدد انکوائریاں اور مقدمات درج کیے، مگر تمام ملزمان کا ضمانت پر رہا ہو جانا ایک اور تشویشناک پہلو ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ اتنے بڑے مالی جرم میں ملوث افراد کو عدالت سے آسانی سے ضمانت کیسے مل گئی؟ یہ صورتحال احتسابی نظام کی کمزوری کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بورڈ کی جانب سے خصوصی کمیٹی کا قیام اور فارنزک آڈٹ کی درخواست تب کی گئی جب معاملہ منظرِ عام پر آیا۔ اگر اندرونی کنٹرول مضبوط ہوتا تو نہ صرف یہ نقصان روکا جا سکتا تھا بلکہ ادارے کی ساکھ بھی محفوظ رہتی۔
بدقسمتی سے یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی قومی ادارے میں اس نوعیت کی کرپشن سامنے آئی ہو۔ اس سے قبل بھی مختلف سرکاری محکموں میں اربوں روپے کے اسکینڈلز سامنے آتے رہے ہیں، مگر انجام ہمیشہ چند رپورٹوں، کمیٹیوں اور وعدوں تک محدود رہا۔ اصل مجرم اکثر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ نقصان قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سوئی ناردرن کیس کو محض ایک روایتی فائل نہ بنایا جائے بلکہ اسے مثال بنا کر انجام تک پہنچایا جائے۔ ذمہ دار افسران، سکیورٹی نظام کے نگران، اور غفلت برتنے والے تمام افراد کا تعین ہونا چاہیے۔ فارنزک آڈٹ کو شفاف بنایا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
اگر قومی اداروں میں بدعنوانی کو واقعی روکنا ہے تو محض بیانات نہیں، عملی اور بے لاگ احتساب ناگزیر ہے۔ ورنہ ہر چند ماہ بعد کسی نئے ادارے سے کروڑوں کی چوری کی خبر آتی رہے گی اور قوم صرف تماشائی بنی رہے گی۔ یہ وقت ہے کہ ریاست واضح پیغام دے: قومی اثاثوں پر ہاتھ ڈالنے والا چاہے ادارے کے اندر ہو یا باہر، وہ قانون سے بالاتر نہیں

