ریجنل پولیس آفیسر غازی محمد صلاح الدین کی زیرِ صدارت اجلاس ٹریفک پولیس کی مؤثر سروسز پر تفصیلی غور
ٹریفک سگنلز کی بحالی کے لیے ڈی پی اوز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بند سگنلز کو فوری طور پر فعال کرانے کی ہدایات دی گئیں
بہاولپور : وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے عزمِ محفوظ پنجاب وژن اور آئی جی پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور غازی محمد صلاح الدین (پی پی ایم) کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی آر آئی بی حسن رضا، ڈی ٹی او بہاولپور، ڈی ایس پی پی ایچ پی بہاولپور، ڈی ٹی او ، ڈی ایس پی پی ایچ پی بہاولنگر۔ڈی ٹی اوا ور ڈی ایس پی پی ایچ پی رحیم یار خان نے شرکت کی۔
اجلاس میں موجودہ دھند کی صورتحال، ٹریفک حادثات کی روک تھام، پولیس کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات اور اسکول اوقات میں ٹریفک پولیس کی مؤثر سروسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ غیر نمونہ گاڑیوں، جو انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں، کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایات جاری کی گئیں۔ مزید برآں ٹریفک سگنلز کی بحالی کے لیے ڈی پی اوز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بند سگنلز کو فوری طور پر فعال کرانے کی ہدایات دی گئیں۔ خطرناک یو ٹرنز اور چوراہوں میں ضروری تبدیلی، جبکہ گنے سے بھری ٹرالیوں کی سڑکوں پر پارکنگ اور لوڈنگ پر احکامات جاری کیے گئے۔
آر پی او بہاولپور نے کہا کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے اور محکمہ پولیس محفوظ سڑکوں کے تصور پر مکمل عمل درآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شدید دھند کی صورت میں خطرناک ٹریفک جو کہ پورے روڈ کو بلاک کر رہی ہوتی ہے کو سائیڈ پر روکا جائے، جس کے لیے ٹریفک پولیس اور پی ایچ پی پولیس مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر حادثات غفلت اور لاپرواہی کے باعث پیش آتے ہیں جن کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہونگےاور یہ ایس صورت ممکن ہے جب ٹریفک قوانین کے عملدرآمد پر سختی کی جائے گی۔ نمبر پلیٹس کے حوالے سے انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں گاڑیوں پر محکمہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نمونہ کے مطابق نمبر پلیٹس لگانے کو یقینی بنایا جائے۔ پولیس سمیت تمام سرکاری ادارے بھی اپنی گاڑیوں پر مقررہ نمونہ نمبر پلیٹس لگوائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آخر میں آر پی او بہاولپور نے واضح کیا کہ پبلک سروس ڈلیوری پولیس کی اولین ترجیح ہے، معاشرے میں تمام انسان برابر ہیں، قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں

