آر پی او بہاولپور سے صحافتی برادری کے مطالبات کا نوٹس لینے کی اپیل
اداریہ — 19 جولائی 2026
بہاولپور میں سینئر کرائم رپورٹر روزنامہ خبریں میاں زاہد اویسی پر حملے کے بعد صحافتی برادری میں پائی جانے والی تشویش کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ مختلف پریس کلبوں، صحافتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، وکلاء، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مشترکہ اجلاس میں اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے 20 جولائی تک متعلقہ حکام کو مہلت دی ہے۔ اس کے بعد پرامن احتجاج اور دیگر جمہوری اقدامات کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، دھمکی یا خوف و ہراس کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت یا الزام موجود ہو تو اس کا فیصلہ قانون، عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ تشدد یا طاقت کے استعمال سے۔ یہی آئین، قانون اور مہذب معاشرے کا تقاضا ہے۔
یہ امر قابل قدر ہے کہ بہاولپور کی صحافتی برادری نے اپنے تحفظات کے اظہار کے لیے آئینی اور پرامن راستہ اختیار کیا ہے۔ اب ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صحافیوں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
ہم ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بہاولپور، غازی صلاح الدین سے مؤدبانہ مگر پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں، صحافتی برادری کے نمائندوں سے ملاقات کریں، ان کے تحفظات سنیں اور اس مقدمے کی تحقیقات کو شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں۔ اگر مقدمے میں قانونی نوعیت کی کسی نظرثانی یا مزید کارروائی کی ضرورت ہو تو وہ بھی قانون کے مطابق بروقت عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کی فراہمی پر کسی قسم کا سوال نہ اٹھے۔
پولیس اور صحافی دونوں ریاستی و سماجی نظام کے اہم ستون ہیں۔ باہمی اعتماد، احترام اور قانون کے دائرے میں تعاون ہی ایسے تنازعات کا پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔ کشیدگی یا بداعتمادی کسی کے مفاد میں نہیں۔
ہمیں امید ہے کہ 20 جولائی کی مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل آر پی او غازی صلاح الدین صحافتی برادری کے تحفظات کے ازالے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے، تاکہ ایک ممکنہ احتجاجی صورتحال سے بچتے ہوئے قانون کی حکمرانی، انصاف کی بالادستی اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ ایک بار پھر اس اصولی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ آزادیٔ صحافت، صحافیوں کا تحفظ، غیر جانبدار تحقیقات اور قانون کی بالادستی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ان اصولوں کا تحفظ نہ صرف صحافی برادری بلکہ پورے معاشرے کے مفاد میں ہے۔

