بہاولپور صوبے کی بحالی کسی نئے انتظامی یونٹ کا قیام نہیں بلکہ 1951 کے آئینی صوبے کا مسلمہ حق ہے: پرنس بہاول عباس خان عباسی
وکلا برادری قانون و آئین کی بالادستی کے لیے بہاولپور صوبہ محاذ کا دست و بازو بنے؛ 56 سالہ آئینی و قانونی جدوجہد اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے: سربراہ بہاولپور صوبہ محاذ کا ہارون آباد تحصیل بار سے خطاب
ہارون آباد (خصوصی رپورٹ / ڈسٹرکٹ رپورٹر): سربراہ بہاولپور صوبہ محاذ و ولی عہد بہاولپور پرنس بہاول عباس خان عباسی نے ہارون آباد تحصیل بار ایسوسی ایشن کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہاولپور صوبے کی بحالی کا معاملہ محض کسی نئے انتظامی یونٹ کی تشکیل کا نہیں، بلکہ 1951 کے آئینی صوبے کی بحالی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے وعدوں کی پاسداری کا آئینی مقدمہ ہے
بار ایسوسی ایشن میں وکلا اور معززین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی نے تحریک کے بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

- تین نسلوں کی آئینی جدوجہد (1970–2026): تحریکِ بحالیِ صوبہ بہاولپور 56 برس پر محیط آئینی سفر ہے۔ 1951 میں بہاولپور ایک کامل اور خودمختار صوبہ تھا جس کی 1952 میں اپنی منتخب اسمبلی وجود میں آئی۔ 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد عباسی خاندان کی پہلی نسل، پرنس مامون الرشید عباسی کی قیادت میں تحریک کا آغاز ہوا جس میں عوام نے 5 میں سے 4 قومی اسمبلی نشستوں پر تاریخی کامیابی حاصل کی۔
- آئینی و پارلیمانی صحافت اور مسلّم سیاسی حق: 2011 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے صادق گڑھ پیلس کا دورہ کر کے امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کی موجودگی میں صوبے کی بحالی کی متفقہ سفارش کی، جس کی روشنی میں 9 مئی 2012 کو پنجاب اسمبلی نے بہاولپور صوبے کی بحالی کی متفقہ قرارداد منظور کی۔
- انتظامی و جغرافیائی ضرورت: آج پاکستان کی 62 فیصد آبادی اکیلے صوبہ پنجاب میں مقیم ہے، جو دنیا کے 158 ممالک اور تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ جہاں ایران کے 31، ترکی کے 81 اور افغانستان کے 34 صوبے ہیں، وہاں پنجاب کی انتظامی تقسیم اور بہاولپور صوبے کی بحالی وسائل کی منصفانہ اور نچلی سطح پر فراہمی کے لیے ناگزیر بن چکی ہے۔
- ریاستِ بہاولپور کا تاریخی ایثار: محسنِ پاکستان نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے قیامِ پاکستان کے وقت نوزائیدہ مملکت کی تمام مالی و دفاعی ضروریات پوری کیں، پہلی کابینہ کی تنخواہیں ادا کیں اور اسٹیٹ بینک آف بہاولپور کے ذریعے ملکی مالیات کو سنبھالا دیا۔
ولی عہد بہاولپور نے قانون دان برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وکلا آئین اور قانون کے حقیقی محافظ ہیں۔ ‘بہاولپور صوبہ محاذ’ کے اس آئینی مقدمے کو عدالتوں، عوامی ایوانوں اور قانون ساز فورمز پر مضبوطی سے اٹھایا جائے تاکہ تین نسلوں کی اس تاریخی جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے
۔
تقریب کے اختتام پر تحصیل بار ایسوسی ایشن ہارون آباد کے عہدیداران اور سینئر وکلا نے ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی کا شکریہ ادا کیا اور بہاولپور صوبہ محاذ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور قانونی و آئینی حمایت کا اعادہ کیا۔

