معروف مدیر سعید خاور کی صحافت بیتی
معروف ایڈیٹر سعید خاور احمد پور شرقیہ کے با سی ہیں برسوں قبل کراچی منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے مختلف اخبارات اور جرائد میں خدمات سرانجام دیں -وہ ماضی میں روزنامہ نوائے وقت کراچی کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور 2017 تا جنوری 2025 تک 92 نیوز کی بندش تک اس کے کراچی ایڈیشن کے ایڈیٹر بھی رہے – سعید خاور نے مدیر احسان احمد سحر کو وایس ایپ کے ذریعے اپنی صحافت بیتی ارسال کی ہے جسےہم من و عن شائع کر رہےہیں
صحافت کے مزدور اور مالکان کی بے حسی
جب قلم کی عمر بھر کی رفاقت چند لاکھ روپے میں تولی جائے
پاکستان میں صحافت کبھی محض ایک پیشہ نہیں تھی۔ یہ ایک عہد تھا، ایک مشن تھا، ایک ایسا چراغ تھا جسے جلانے کے لیے ہزاروں صحافیوں نے اپنی جوانیاں، اپنی نیندیں اور اپنی زندگی کے قیمتی برس نذر کر دیے۔ مگر آج یہی صحافت اپنے معماروں کے لیے ایک بے رحم بازار بنتی جا رہی ہے، جہاں عمر بھر کی رفاقتوں کی قیمت چند لاکھ روپے اور وفاداری کا صلہ اچانک برطرفی کی صورت میں ملتا ہے۔
یہ المیہ صرف کسی ایک صحافی یا کسی ایک ادارے کا نہیں۔ یہ پاکستان کے میڈیا کی اس اجتماعی زبوں حالی کی داستان ہے جس میں اخبارات کے صفحات تو چھپتے ہیں، ٹی وی چینل روشن رہتے ہیں، مگر ان اداروں کو اپنے خون پسینے سے قائم رکھنے والے کارکنوں کے گھروں کے چولہے بجھتے جا رہے ہیں۔
عمر بھر کی رفاقت کا اختتام
میرا صحافتی سفر بھی اسی تلخ حقیقت کا ایک باب ہے۔ میں نے نوائے وقت گروپ کے ساتھ طویل رفاقت (28 برس) گزاری۔ 24 اگست 2005ء سے جنوری 2017ء تک روزنامہ نوائے وقت کراچی کا ایڈیٹر، 1992ء سے 2017ء تک ہفت روزہ فیملی میگزین کراچی کا بیورو چیف اور 2007ء سے 2011ء تک وقت نیوز کا بیورو چیف رہا۔ اس سے قبل اور اس دوران صحافت کے مختلف شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔
جنوری 2017ء میں نوائے وقت گروپ سے میری رفاقت کا اختتام ہوا۔ میرے مطابق، 36 برس کی طویل وابستگی اور ایڈیٹر کے منصب پر تقریباً 12 برس کی خدمات کے بعد مجھے صرف 9 لاکھ روپے دے کر رخصت کر دیا گیا، جبکہ میرے حساب سے کم از کم واجبات ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتے تھے، جس کا قضیہ 9 برس سے "ویج بورڈ ایوارڈ نفاذ کمیشن” میں زیر سماعت ہے۔
یہاں سوال صرف رقم کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحافی کی زندگی کے کئی عشرے کسی ادارے کے لیے خدمات انجام دینے کے بعد اس کی رفاقت کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی؟ کیا ادارے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے والے کارکن کو رخصت کرتے وقت اس کے حقوق، عزت اور مستقبل کا خیال رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں؟
میری طرح نوائے وقت اور 92 نیوز کے سیکڑوں کارکنوں کی برطرفی نے مجھے ذاتی طور پر بھی آزردہ کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ساتھ میں نے برسوں کام کیا، جن کے دکھ سکھ دیکھے اور جنہیں میں اپنے بچوں کی مانند سمجھتا تھا۔ ان کی بے روزگاری محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ گھروں میں پھیلنے والی بے یقینی، بچوں کی فیسوں، علاج معالجے اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کا نام ہے۔
92 نیوز: ایک اور تلخ باب
یکم جنوری 2025ء کو 92 میڈیا گروپ سے میری برطرفی کے بعد میری زندگی ایک نئے بحران سے دوچار ہوئی۔ میں شدید ذہنی دباؤ اور بیماری کا شکار ہوا۔ میری اپنی یادداشت اور ریکارڈ کے مطابق، میں جنوری 2017ء سے 31 دسمبر 2024ء تک روزنامہ 92 نیوز کا ایڈیٹر رہا۔
اس دوران مجھے بعض اضافی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ 92 نیوز ایچ ڈی پلس کے بیورو چیف ریحان ہاشمی کی سبک دوشی کے بعد میں نے، اپنے بیان کے مطابق، تقریباً پانچ برس قائم مقام بیورو چیف کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اسی طرح 92 میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار ’’بلوچستان ٹائمز‘‘ کے اجرا اور ادارت میں بھی میرا بنیادی کردار رہا۔ میرے مطابق، ان اضافی ذمہ داریوں کے عوض جن اضافی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کے وعدے کیے گئے تھے، وہ تاحال متنازع اور غیر تسوّیہ شدہ ہیں۔ جبکہ میں نے 8 برس میں صنعت کار مالکان کے کئی بکھیڑے نبیڑے جس کا مجھے ایک دھیلا بھی معاوضہ نہیں ملا-
میں نے اضافی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کو خطوط بھی لکھے، مگر ان پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ معاملہ کسی ایک شخص کا ذاتی حساب نہیں۔ یہ اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ اگر کسی صحافی سے اس کی مقررہ ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام لیا جائے تو کیا اس کی اضافی محنت کی کوئی مالی قدر نہیں ہونی چاہیے؟ اور اگر کسی ادارے میں تحریری معاہدے، زبانی یقین دہانیاں اور عملی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم ہو جائیں تو انصاف کا دروازہ کس کے لیے کھلتا ہے؟
مالکان کا رویہ اور کارکنوں کا استحصال
پاکستان کے بعض میڈیا اداروں میں مالکان اور کارکنوں کے درمیان تعلق ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف میڈیا کو جمہوریت، آزادی اظہار اور عوامی حقوق کا محافظ قرار دیا جاتا ہے، دوسری طرف انہی اداروں میں کام کرنے والے بے وسیلہ صحافی اپنے بنیادی حقوق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
میری رائے میں، روایتی اخباری مالکان ہوں یا حادثاتی سرمایہ کار، بہت سے مالکان کے لیے میڈیا ایک کاروباری وسیلہ بن چکا ہے۔ بعض لوگ اپنے دیگر کاروباری مفادات اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اشاعتی ادارے قائم کرتے ہیں، مگر ان اداروں کی اصل بنیاد رکھنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے حقوق کو ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے۔
یہ بات ہر مالک کے بارے میں یکساں طور پر نہیں کہی جا سکتی، لیکن جہاں کارکنوں کی تنخواہیں روک دی جائیں، واجبات برسوں لٹکے رہیں، برطرفی کے وقت مناسب نوٹس اور قانونی حقوق نہ دیے جائیں اور انتظامیہ جواب دہ نہ ہو، وہاں میڈیا کی اخلاقی ساکھ پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
صحافت دوسروں سے احتساب کا مطالبہ کرتی ہے۔ پھر میڈیا مالکان خود احتساب سے بالاتر کیوں سمجھے جائیں؟
ادارے بند ہوتے ہیں، خواب نہیں
92 میڈیا گروپ کے زوال کے بارے میں بھی میرے اپنے مشاہدات اور اطلاعات ہیں۔ میرے مطابق، 2023ء اور 2024ء کے دوران گروپ کے بعض شہروں سے اخبارات کی اشاعت بند ہوئی، کئی کارکنوں کو رخصت کیا گیا اور بعض مقامات پر اخبارات کی طباعت کے انتظامات تبدیل کیے گئے۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میڈیا اداروں کے بحران کو صرف مالی مشکلات کے کھاتے میں ڈال دینا کافی نہیں۔ انتظامی فیصلے، کاروباری حکمت عملی، ادارتی معیار، کارکنوں کے ساتھ برتاؤ اور مالی شفافیت، سب مل کر کسی ادارے کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ یہ کہنا کہ کسی ادارے کا زوال صرف ایک شخص یا ایک سیاسی تعلق کی وجہ سے ہوا، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے قابلِ اعتماد مالی، انتظامی اور دستاویزی شواہد درکار ہوتے ہیں۔ تاہم یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ جن اداروں نے کبھی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں کیں، متعدد شہروں سے اخبارات نکالے اور صحافت کے میدان میں اپنا نام بنایا، وہ اپنے کارکنوں کے مستقبل کی ضمانت کیوں نہ دے سکے؟
کیا ادارے صرف مالکان کے کاروباری منصوبے ہوتے ہیں یا ان میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کے خواب بھی شامل ہوتے ہیں؟
صحافت کے مزدور کا کوئی وارث نہیں؟
پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین، پریس کلب، یونینیں اور مختلف ادارے موجود ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے کارکن اپنے واجبات، ملازمت کے تحفظ اور عزتِ نفس کے مسائل کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں۔
ایک صحافی جب اپنے ادارے سے برطرف ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک ملازمت ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، علاج، معاشرتی وقار اور مستقبل کی منصوبہ بندی سب متاثر ہوتی ہے۔
بے روزگار صحافی کو اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کوئی دوسرا کام کر لے۔ یہ مشورہ دینے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ عمر بھر قلم سے وابستہ شخص کے لیے اچانک پیشہ بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب اس نے اپنی جوانی ایک ادارے کی تعمیر میں صرف کر دی ہو۔
میں یکم جنوری 2025ء سے اپنی زندگی کے ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزرا ہوں۔ بے روزگاری، بیماری، سوگواری اور سماجی تنہائی نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اس دوران مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ صحافت کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود صحافی خود کتنے بے سہارا اور اکیلے ہیں۔
واجبات صرف رقم نہیں، انصاف ہیں
میرے نوائے وقت اور 92 نیوز سے اپنے واجبات کا معاملہ ابھی میرے لیے ایک زندہ سوال ہے۔ میں نے جو خدمات انجام دیں، ان کی تفصیل میرے پاس موجود ہے۔ جن اضافی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کے وعدوں کا میں ذکر کرتا ہوں، ان کے بارے میں میرے پاس اپنی یادداشت، خطوط، شہادتیں اور دیگر ریکارڈ موجود ہیں۔
میں کسی فرد کو عدالت سے پہلے مجرم قرار دینے کا قائل نہیں۔ لیکن یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ اگر کسی ادارے پر کسی کارکن کے واجبات واجب الادا ہونے کا دعویٰ ہو تو اسے سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ کارکن کو جواب، حساب اور انصاف ملنا چاہیے۔
میرا مطالبہ انتقام نہیں، حق ہے۔
میری شکایت کسی ایک رقم تک محدود نہیں۔ یہ اس رویے کے خلاف ہے جس میں صحافی کی کئی دہائیوں کی محنت کو ایک فائل، ایک دستخط یا ایک اچانک فیصلے سے ختم کر دیا جاتا ہے۔
اب سوال مالکان سے ہے
میڈیا مالکان سے میرا سوال ہے:
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے اداروں کو بام عروج تک پہنچانے والے صحافی آج کہاں اور کس حال میں ہیں؟
کیا آپ نے ان کارکنوں کے گھروں کا حال معلوم کیا جنہیں اچانک ملازمت سے فارغ کر دیا گیا؟
کیا آپ نے کبھی یہ حساب لگایا کہ ایک صحافی کی زندگی کے 20، 30 یا 36 برس کی خدمات کی قیمت کیا ہے؟
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ جس ادارے کے صفحات پر دوسروں کے حقوق کی خبریں شائع ہوتی ہیں، وہاں کام کرنے والے کارکن اپنے حقوق کے لیے کس دروازے پر جائیں؟
اور کیا آپ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ صحافت صرف چینل، اخبار، عمارت، مشین اور کاروباری نام کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانوں کی محنت، قربانی اور اعتماد کا نام ہے؟
سرکار ! قلم ابھی زندہ ہے
میں نے اپنے واجبات اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا ہے۔ میری زندگی کے اس مشکل دور نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ انسان کو کبھی کبھی اپنے اردگرد کی دنیا سے نہیں، صرف اپنے رب سے امید رکھنی پڑتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی خاموش رہیں۔ نہ یہ کہ مالکان جواب دہ نہ ہوں۔ نہ یہ کہ ادارے کارکنوں کے حقوق پامال کرتے رہیں۔
صحافت کا اصل وقار اسی وقت بحال ہو گا جب صحافی کو بھی وہی عزت، تحفظ اور انصاف ملے گا جس کا مطالبہ وہ معاشرے کے دوسرے طبقات کے لیے کرتا ہے۔
میری عمر کے کئی عشرے قلم کی خدمت میں گزرے ہیں۔ میں نے ادارے بنائے، صحافت کی اپنے خون پسینے آبیاری کی، صفحات سنوارے، خبریں لکھیں، معاشرے کی دو رنگی کو طشت از بام کیا، اداریے مرتب کیے اور صحافت کی نئی نسلوں کے ساتھ کام کیا۔ آج اگر میں اپنے حقوق کی بات کرتا ہوں تو یہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں۔
یہ ان تمام صحافیوں کے لیے ہے جو برسوں کی محنت کے بعد اچانک بے روزگار کر دیے گئے۔
یہ ان کارکنوں کے لیے ہے جن کے واجبات فائلوں میں دبے ہوئے ہیں۔
یہ ان بدنصیب خاندانوں کے لیے ہے جو اپنے باپ، بھائی یا شوہر کی ملازمت ختم ہونے کے بعد معاشی اندھیروں میں دھکیل دیے گئے۔
اور یہ اس صحافت کے لیے ہے جسے ہم نے کبھی ایک مقدس ذمہ داری سمجھا تھا۔
قلم کو خاموش کیا جا سکتا ہے، صحافت کا گلہ دبایا جا سکتا ہے، مگر صحافی کے حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔
وضاحتی نوٹ:
یہ مضمون معروف مدیر سعید خاور کا ذاتی بیان اور ان کے خیالات ہیں۔ ان کی ملازمت، واجبات، سابقہ میڈیا اداروں سے متعلق دعوے، اعداد و شمار اور الزامات انہی کے بیان کے مطابق پیش کیے گئے ہیں۔ روزنامہ نوائے احمدپورشرقیہ نے ان تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی اور نہ ہی ضروری ہے کہ اخبار ان خیالات یا دعوؤں کی توثیق یا تائید کرتا ہو۔ یہ مضمون مصنف کا مؤقف اور ذاتی تجربہ قارئین تک پہنچانے کے مقصد سے شائع کیا گیا ہے۔

