آ ہ—- رانا اعجاز محمود
تحریر : احسان احمد سحر
سابق ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ بہاولپور ڈویژن رانا اعجاز محمود کی آج چھٹی برسی ہے وہ 8 جولائی 2020 کو کرونا کی بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے -ان کا شمار محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے سینیئر ترین افسران میں ہوتا تھا اور اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ آج ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے عہدے پر فائز ہوتے رانا اعجاز محمود نے بہاولپور میں بہت اچھا وقت گزارا ان کا وسیع مطالعہ تھا نیز انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل تھاراقم الحروف کی بحثیت چیف ایڈیٹر روزنامہ نوائے احمد پور شرقیہ رانا اعجاز محمود سے ان کی بہاولپور میں تعیناتی کے دوران متعدد ملاقاتیں ہوئیں جب بھی ان سے دفتر میں ملاقات ہوتی تھی تو وہ شام کو کئی گھنٹوں پر محیط ہوتی تھی اور اس گفتگو کے موضوعات میں زیادہ تر ادب، تاریخ،موسیقی اور انٹرنیشنل ریلیشنز شامل تھے۔ ایک یا دو مرتبہ انکی سرکاری اقامت گاہ پر بھی ملاقاتیں ہوئیں- رانا اعجاز محمود مرحوم پکوڑے کھانے کے بہت شوقین تھے -مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی رانا اعجاز محمود مرحوم سے انکے آفس میں ملاقات ہوتی تو وہ اپنی اہلیہ کو فون کرکے پکوڑے منگوایا کرتے تھے-میں نے اُنکی خواہش کے مطابق دو حہ قطر میں منعقدہ انٹرنیشل کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر اُنہیں الجزیرہ اور دوحہ سینٹر فار میڈیا فریڈم کی انگریزی زبان میں شائع کتب کا ایک تحفہ بھی دیا تھا جسے اُنہوں نے بہت پسند کیا

راقم الحروف کی استدعا پر ڈائریکٹر رانا اعجاز محمود نے 2018 میں نورپور نو رنگا میں رول میڈیا نیٹ ورک پاکستان اور دوحہ سینٹر فار میڈیا فریڈم کے اشتراک سے منعقدہ سیفٹی آف جرنلسٹس ٹریننگ ورکشاپ کی تقریب تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی جسکی رپورٹ آج بھی آر ایم این پی کی ویب سائٹ پر موجود ہے رانا اعجاز محمود اپنی زندگی کے اخری ایام میں بہاولپور میں ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل کے فرائض انجام دے رہے تھے تو انہوں نے اس موقع پر میرے سے یہ طے کیا کہ کرونا وائرس ختم ہونے کے بعد وہ پنجاب آرٹس کونسل میں اسلامیہ یونیورسٹی میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ و طالبات کی ایک مخصوص نشست کا میرے ساتھ اہتمام کریں گے جسکا فوکس انٹرنیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا کانفرنسز میں میری شرکت ہوگی – اسکا ایک حصّہ اُنہوں نے سوال اور جواب کا مختص کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن زندگی نے انہیں مہلت نہ دی اور آج کے روز خالق حقیقی سے جا ملے
رانا اعجاز محمود چوک اعظم لیہ کے رہائشی تھے ان کے انتقال پر ملک بھر میں مختلف صحافتی حلقوں نے اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی رحلت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا مجھے اب تک یاد ہے کہ معروف اینکر پرسن روف کلاسرا نےایک قومی اخبار میں ” گرو کی موت” کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جسمیں انہوں نے رانا اعجاز محمود مرحوم کو اپنا استاد تسلیم کیا تھا صرف اسی سے رانا اعجاز محمود مرحوم کے علمی قدوکاٹھ کا بخوبی اندازہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے – آج انکی آٹھویں برسی کے موقع پر ہم دعا گو ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند کرے اور انکی آخری آرامگاہ پر اپنی رحمت کا سائبان پھیلا دے
"حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا "

