ریجنل پولیس آفیسر بہاولپورغازی محمد صلاح الدین کا ریجنل پولیس آفس میں اردل روم کا انعقاد
محکمانہ اپیلوں اور شوکاز نوٹسز کی سماعت کی اور مختلف کیسز میں میرٹ کے مطابق فیصلے جاری کر دیے
بہاولپور+ جن پور(نامہ نگار ) ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور غازی محمد صلاح الدین نے ریجنل پولیس آفس میں اردل روم کا انعقاد کرتے ہوئے محکمانہ اپیلوں اور شوکاز نوٹسز کی سماعت کی اور مختلف کیسز میں میرٹ کے مطابق فیصلے جاری کر دیےاردل روم کے دوران ٹی/اے ایس آئی محمد عامر، کانسٹیبل محمد عرفان، اے ایس آئی محمد ارشد اور اے ایس آئی مقصود احمد کی اپیلیں منظور کر لی گئیں، جبکہ ریٹائرڈ ایس آئی شاہد ایوب کی آٹھ اپیلیں بھی منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف عائد سزائیں ختم کر دی گئیں۔
نوکری سے برخاست ٹریفک اسسٹنٹ کو بھی ملازمت پر بحال کرتے ہوئے برخاستگی کی سزا کو ایک اسٹیج تنخواہ میں تنزلی کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی طرح برخاست اے ایس آئی محمد ساجد کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔ دوسری جانب لیڈی کانسٹیبل فلک ناز، کانسٹیبل محمد عرفان، ایس آئی عرفان علی، کانسٹیبل محمد رشید، اے ایس آئی غلام مصطفیٰ، ہیڈ کانسٹیبل محمد احمد عمران، ہیڈ کانسٹیبل محمد شاہد، کانسٹیبل محمد قاسم، کانسٹیبل محمد یعقوب اور اے ایس آئی عبدالحمید کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔
شوکاز نوٹسز کی سماعت کے دوران انسپکٹر محمد انیس کو ایک اسٹیج تنخواہ میں تنزلی جبکہ انسپکٹر محمد صغیر کو انسپکٹر کے عہدے سے اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی کی سزا سنائی گئی۔ ٹریفک وارڈن حامد فیاض، ٹریفک اسسٹنٹ محمد اسلم، جونیئر ٹریفک وارڈن غلام مرتضیٰ، ٹریفک اسسٹنٹ خلیل احمد اور ٹریفک وارڈن طارق حمید کے ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ ریٹائرڈ اسسٹنٹ محمد اسلم کا شوکاز نوٹس داخل دفتر کر دیا گیا، جبکہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر کانسٹیبل فاروق علی کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ ایس آئی ساجد، ایس آئی محمد انور، ایس آئی شاداب، ایس آئی فضل عباس، ایس آئی محمد ندیم عباس، اے ایس آئی محمد صدیق اور انسپکٹر نذیر احمد کے تسلی بخش جوابات پر ان کے شوکاز نوٹسز بھی داخل دفتر کر دیے گئےاس موقع پر آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین نے کہا کہ محکمانہ احتساب میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی پاسداری کو مقدم رکھا جا رہا ہے۔ فرائض میں غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل بلاامتیاز جاری رہے گا

