Advertisements

پنجاب میں بھی صحافیوں کی فلاح کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت

Advertisements

اداریہ —- 4 جولائی 2026

خیبر پختونخوا حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال ہیں۔ صحافیوں کے لیے علیحدہ اینڈومنٹ فنڈ کے قیام، جرنلسٹس ویلفیئر اینڈومنٹ فنڈ میں نمایاں اضافے، بلا سود قرضوں، ضلعی پریس کلبوں کی بحالی، میڈیا کالونیوں کے منصوبوں اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق فیصلے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک ذمہ دار حکومت آزاد اور مستحکم صحافت کو ریاستی ترقی کا لازمی جزو سمجھتی ہے۔

Advertisements

اس کے برعکس پنجاب، جو ملک کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، آج بھی صحافیوں کی فلاح کے حوالے سے کسی جامع پالیسی سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے رجسٹرڈ پریس کلبوں کو سالانہ گرانٹس کی فراہمی یقیناً ایک مثبت اقدام ہے، لیکن یہ سہولت صرف محدود تعداد میں اداروں تک محدود ہے۔ صحافیوں کی یونینز، دیہی و علاقائی صحافتی تنظیمیں، میڈیا ایسوسی ایشنز اور دیگر نمائندہ ادارے حکومتی سرپرستی سے تقریباً محروم ہیں، حالانکہ یہی ادارے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، پیشہ ورانہ تربیت اور تنظیمی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

پنجاب حکومت کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر صحافیوں کے لیے کم از کم تین سے پانچ ارب روپے پر مشتمل خصوصی فنڈ قائم کرے، جس کے ذریعے صحافیوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ یہ قرضے رہائش، جدید صحافتی آلات کی خریداری، چھوٹے کاروبار، بچوں کی تعلیم اور دیگر معاشی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ معاشی طور پر مستحکم صحافی ہی آزادانہ، بے خوف اور ذمہ دار صحافت کا فریضہ بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے۔

اسی طرح پنجاب حکومت کو سندھ کی طرز پر صرف پریس کلبوں ہی نہیں بلکہ صحافیوں کی رجسٹرڈ یونینز، صحافتی تنظیموں اور دیگر میڈیا اداروں کو بھی مالی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ ایک مضبوط صحافتی تنظیمی ڈھانچہ ہی صحافیوں کے حقوق، پیشہ ورانہ آزادی اور میڈیا کے استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

تاہم سب سے بڑا مسئلہ پریس کلبوں کی رجسٹریشن کا ہے۔ پنجاب میں کسی پریس کلب کی رجسٹریشن کا موجودہ طریقہ کار اس قدر طویل، پیچیدہ اور دفتری تقاضوں سے بھرپور ہے کہ وہ عملاً غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی رجسٹریشن کے عمل سے مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ متعدد محکموں سے این او سی، بار بار دستاویزات کی جانچ، غیر ضروری شرائط اور طویل انتظار کے باعث کئی حقیقی پریس کلب برسوں تک رجسٹریشن سے محروم رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ حکومتی گرانٹس، فلاحی منصوبوں اور دیگر سہولتوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

یہ صورتحال فوری اصلاحات کی متقاضی ہے۔ حکومتِ پنجاب کو پریس کلبوں اور صحافیوں کی یونینز کی رجسٹریشن کے لیے ایک سادہ، شفاف، آن لائن، کم لاگت اور مقررہ مدت پر مشتمل نظام متعارف کرانا چاہیے، تاکہ حقیقی صحافتی اداروں کو غیر ضروری بیوروکریسی سے نجات مل سکے۔ پریس کلب کوئی کاروباری یا غیر سرکاری ترقیاتی ادارہ (این جی او) نہیں بلکہ عوامی مفاد، معلومات کی فراہمی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے قائم ہونے والے پیشہ ورانہ ادارے ہیں، اس لیے ان کی رجسٹریشن کا طریقہ کار بھی ان کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

آج کا دور میڈیا کی تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان روایتی صحافی پہلے ہی شدید معاشی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں حکومتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ صحافیوں کو صرف بیانات سے نہیں بلکہ مؤثر فلاحی پالیسیوں، مالی معاونت، تربیتی پروگراموں، صحت و انشورنس، رہائشی سہولتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کریں۔

پنجاب حکومت اگر واقعی آزاد، ذمہ دار اور مضبوط صحافت کی خواہاں ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وہ محدود سالانہ گرانٹس کی پالیسی سے آگے بڑھے۔ صحافیوں کے لیےتوسیع شدہ ویلفیئر اینڈومنٹ فنڈ، تین سے پانچ ارب روپے کے بلا سود قرضوں کا پروگرام، صحافتی تنظیموں کی سرکاری سرپرستی، اور پریس کلبوں و صحافیوں کی یونینز کی آسان رجسٹریشن جیسے اقدامات نہ صرف صحافی برادری کا اعتماد بحال کریں گے بلکہ پنجاب میں جمہوری اقدار، شفاف حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ میں بھی سنگِ میل ثابت ہوں گے