پنجاب میں ترقیاتی پروگرام سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت چلانے کا فیصلہ
اداریہ — 6 جنوری 2026
پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کو سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت چلانے کا فیصلہ ایک اہم پالیسی اقدام ہے، جس کا مقصد محدود سرکاری وسائل کے باوجود بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی سہولیات کے معیار میں اضافہ اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبے بھر میں سڑکوں، مکانات، پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کے منصوبوں کو نجی شعبے کے اشتراک سے آگے بڑھانے کی ہدایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت ترقی کے لیے نئے اور مؤثر طریقۂ کار اپنانا چاہتی ہے۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام میں کم از کم تیس فیصد منصوبوں کو سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت شامل کرنے اور زرعی، صنعتی اور شہری اہمیت کی چوبیس راہداریوں کی منظوری سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ خاص طور پر پرانے پانی کے نظام کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری جیسے منصوبے براہِ راست عوامی صحت اور معیارِ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں نجی شعبے کی فنی مہارت اور انتظامی صلاحیت بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹول وصولی کے جدید نظام کے نفاذ، بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور سفر کے دوران تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات بلاشبہ خوش آئند ہیں، تاہم یہ امر نہایت ضروری ہے کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کے دوران عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔ ٹول کی شرحیں منصفانہ ہوں، معاہدوں کی شرائط واضح اور شفاف ہوں اور منصوبوں کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جائے، تاکہ عوام پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔
چراغ آباد، جھنگ اور شورکوٹ کی سڑک کو دو رویہ بنانے اور چکوال و قصور میں آبی منصوبوں کے لیے مشاورتی ماہرین کی تقرری جیسے فیصلے اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت ترقیاتی کاموں میں رفتار لانا چاہتی ہے۔ مجموعی طور پر سرکاری و نجی شراکت داری کا ماڈل پنجاب کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ شفافیت، جواب دہی اور عوامی مفاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو ترقی کے یہ منصوبے عوام کے لیے فائدے کے بجائے مسائل کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

