پنجاب بجٹ 2026-27: سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ساتھ ناانصافی
اداریہ —- 18 جون 2026
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان میں سرکاری ملازمین اور بالخصوص پنشنرز کو جو ریلیف دیا گیا ہے، وہ ان کی مشکلات کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہے۔ پنجاب حکومت نے اپنے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد جبکہ پنشن میں محض 3.5 فیصد اضافہ کیا ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں کسی طور پر تسلی بخش نہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، ادویات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار سے قطع نظر، عام آدمی کی زندگی پر مہنگائی کا بوجھ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں 7 فیصد تنخواہ اور 3.5 فیصد پنشن اضافہ دراصل حقیقی آمدنی میں کمی کے مترادف ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان حکومتوں نے اپنے پنشنرز کے لیے 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پنجاب کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کو صرف نصف کے برابر یعنی 3.5 فیصد اضافہ دیا گیا۔ یہ فرق نہ صرف سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ پنجاب کے پنشنرز میں احساسِ محرومی بھی پیدا کرتا ہے۔ پنشنرز وہ طبقہ ہیں جو اپنی پوری زندگی ریاستی خدمات انجام دینے کے بعد بڑھتی عمر اور صحت کے اخراجات کا سامنا کرتے ہیں۔ انہیں کم از کم دیگر صوبوں کے برابر ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی ناکافی ہے۔ اگر مہنگائی کی شرح، روزمرہ اخراجات اور قوتِ خرید میں کمی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ اضافہ محض علامتی محسوس ہوتا ہے۔ ملازمین کی تنظیمیں عرصہ دراز سے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں اور الاؤنسز میں معقول اضافے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں، مگر بجٹ میں ان کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔
حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کسی بھی ریاستی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا تو اس کے اثرات سرکاری کارکردگی، عوامی خدمات اور مجموعی سماجی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ بجٹ سازی کا مقصد صرف اعداد و شمار کا توازن قائم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت پنشن میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اسے کم از کم سندھ اور بلوچستان کے برابر لائے۔ اسی طرح وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو مہنگائی کے حقیقی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کے وظائف میں مزید بہتری کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہی ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری اور عوامی توقعات کا تقاضا ہے

