پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم: ایک مثبت پیش رفت
اداریہ —-11 جنوری 2026
پنجاب حکومت کی جانب سے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں عدالتی اختیارات کی بحالی کے لیے مجوزہ ترامیم پر رضامندی ایک خوش آئند اور مثبت قدم ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف عدلیہ اور وکلا تنظیموں کے تحفظات کا اعتراف ہے بلکہ اس تاثر کے ازالے کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ حکومت انتظامی اختیارات کے ذریعے عدالتی دائرہ اختیار کو محدود کرنا چاہتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں اس قانون کے خلاف دائر درجنوں درخواستوں اور حکمِ امتناع کے بعد یہ واضح ہو چکا تھا کہ موجودہ شکل میں پراپرٹی اونرشپ ایکٹ آئینی، قانونی اور عدالتی اصولوں سے متصادم ہے۔ اس تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطحی قانونی کمیٹی کا قیام اور اس کے ذریعے قانون میں ترامیم کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونلز کو ختم کرکے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونل کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ عدالتی خودمختاری کے اصول کے عین مطابق ہے۔ اسی طرح قبضے سے متعلق درخواستیں ضلعی کمیٹیوں کو بھیجنے کا اختیار سول جج کو دینا اور کمیٹیوں کو زیر التوا مقدمات پر براہ راست فیصلے سے روکنا ایک نہایت اہم اور ضروری اصلاح ہے۔
ماضی میں انتظامی کمیٹیوں کو حاصل اختیارات کے باعث انصاف کے بنیادی تقاضے متاثر ہو رہے تھے اور عدالتی فورمز کو بائی پاس کیا جا رہا تھا، جو کسی بھی مہذب اور آئینی نظام میں قابل قبول نہیں۔ نئی ترامیم کے ذریعے یہ توازن بحال ہونے کی امید ہے کہ جہاں انتظامیہ اپنا معاون کردار ادا کرے گی وہیں حتمی فیصلہ سازی عدلیہ کے پاس ہی رہے گی۔
مزید برآں، ٹربیونلز کے عبوری احکامات کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کا حق دینا بھی قانون کی بالادستی کے اصول کو مضبوط بناتا ہے۔ جوڈیشل ریویو کی شمولیت سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کوئی بھی قانون آئین اور عدالتی نگرانی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی ایک حوصلہ افزا پہلو ہے کہ نئی ترامیم کی تیاری میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے۔ اگر تمام فریقین کی مشاورت سے ان ترامیم کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تو نہ صرف حکومت اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشمکش کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اس معاملے میں تاخیر سے گریز کرتے ہوئے مجوزہ ترامیم کو جلد از جلد قانونی شکل دے، تاکہ پراپرٹی سے متعلق تنازعات میں انصاف، شفافیت اور آئینی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

