Advertisements

ایک بیٹی کا خواب ایک خطے کا فخر

Professor Dr. Shazia Anjum, Vice Chancellor, Government Sadiq College Women University Bahawalpur
پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور
Advertisements

احمد پور شرقیہ کی درس گاہ سے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلرشپ تک: عزم، علم، بصیرت اور قیادت کے دو سال

پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم کو بطور وائس چانسلر دو سال مکمل ہونے پر خراجِ تحسین

Advertisements

کچھ سفر محض ذاتی کامیابی کی داستان نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے امید حوصلے اور امکانات کی نئی تاریخ رقم کرتے ہیں کچھ شخصیات صرف عہدوں پر فائز نہیں ہوتیں بلکہ اپنی جدوجہد علم فکری پختگی بصیرت اور کردار سے معاشرے کے روایتی تصورات کو نئے معنی عطا کرتی ہیں وہ اپنی زندگی سے یہ ثابت کرتی ہیں کہ کامیابی کا تعلق جنس خاندانی پس منظر یا جغرافیائی حدود سے نہیں بلکہ علم مسلسل محنت عزم خوداعتمادی اور مقصد سے وابستگی سے ہوتا ہے پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم کا سفر بھی ایسی ہی ایک متاثر کن داستان ہے ایک ایسی بیٹی کا سفر جو احمد پور شرقیہ کی ابتدائی تعلیمی زندگی سے علم و تحقیق کے مختلف مراحل طے کرتی ہوئی گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر کے منصب تک پہنچی ان کی زندگی کا یہ سفر محض ایک فرد کی پیشہ ورانہ کامیابی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی ہر اس بیٹی کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنی آنکھوں میں بڑے خواب سجائے علم کی روشنی میں اپنا مستقبل تلاش کر رہی ہے بطور وائس چانسلر دو سال مکمل ہونا صرف ایک انتظامی مدت کی تکمیل نہیں بلکہ ان کے علمی فکری اور قیادتی سفر پر غور کرنے خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کا جائزہ لینے اور ادارے کے لیے نئے امکانات کی نشاندہی کرنے کا ایک اہم موقع ہے یہ لمحہ اس حقیقت کو اجاگر کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ایک بیٹی جب علم شعور حوصلے اور مواقع سے آراستہ ہوتی ہے تو اس کی کامیابی صرف اس کے خاندان تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے خطے اور قوم کے لیے باعثِ افتخار بن جاتی ہے قرآن کا پیغام علم کردار اور انسانی فضیلت میں عورت کا مقام اسلام نے عورت کو عزت وقار شناخت تعلیم اور معاشرتی کردار کا جو تصور دیا وہ انسانی تاریخ میں ایک اہم فکری و اخلاقی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے قرآنِ مجید نے علم اور اہلِ علم کی فضیلت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

یہ دعا صرف مرد یا عورت کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہر طالبِ علم معلم محقق اور صاحبِ فکر کے لیے علم کے مسلسل حصول کا پیغام ہے اسی طرح قرآنِ مجید میں ارشاد ہے هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ترجمہ: کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ (سورۃ الزمر: 9) قرآنِ مجید نے نیکی ایمان اور عملِ صالح کے میدان میں مرد و عورت دونوں کو یکساں انسانی قدر و منزلت عطا کرتے ہوئے فرمایا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً

ترجمہ: جو کوئی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو، ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔ (سورۃ النحل: 97) یہ قرآنی تعلیم اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کی فضیلت اس کے کردار عمل تقویٰ اور صلاحیت سے متعین ہوتی ہے نہ کہ اس کی جنس سے چنانچہ بیٹیوں کی تعلیم تربیت علمی ترقی اور قیادت کے مواقع فراہم کرنا ایک مہذب باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے ایک طالبہ سے وائس چانسلر تک خواب سے تعبیر کا سفر

ڈاکٹر شازیہ انجم کے سفر کا سب سے متاثر کن پہلو ان کی ابتدائی تعلیمی زندگی سے یونیورسٹی کی اعلیٰ ترین انتظامی و علمی ذمہ داری تک پہنچنے کا سفر ہے ایک اسکول کی طالبہ کے ذہن میں جنم لینے والا خواب جب مسلسل تعلیم محنت تحقیق، فکری بالیدگی اور پیشہ ورانہ استقامت کے ذریعے عملی حقیقت بنتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی راستے روشن کرتا ہے

احمد پور شرقیہ جیسے تاریخی اور تہذیبی پس منظر رکھنے والے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی کا خواتین کی جامعہ کی قیادت تک پہنچنا اس خطے کی طالبات کے لیے ایک معنی خیز مثال ہے یہ سفر والدین کو بھی دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کو محض رسمی ضرورت نہیں بلکہ خاندان معاشرے اور قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری سمجھیں یہی وہ پیغام ہے جسے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں گھروں اور معاشرتی رویوں کا حصہ بنانا چاہیے کہ بیٹی کو خواب دیکھنے سوال کرنے تحقیق کرنے فیصلہ سازی میں شریک ہونے اور قیادت کرنے کا پورا حق اور موقع ملنا چاہیے علامہ اقبال کا تصورِ خودی اور عورت کی تخلیقی قوت علامہ محمد اقبال نے فرد کی خودی خوداعتمادی کردار بلند ہمتی اور تخلیقی صلاحیت کو انسانی ارتقا کی بنیاد قرار دیا اقبال کے نزدیک قوموں کی تعمیر محض اداروں سے نہیں بلکہ ان افراد سے ہوتی ہے جن کے اندر بلند مقصد خودی عمل اور یقین کی قوت موجود ہو

اقبال نے مسلمان خواتین کی عظمت اور قومی کردار کو بھی خصوصی اہمیت دی ان کی شاعری میں حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی شخصیت کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرتِ زہرا عزیز

یعنی حضرت مریمؑ کو حضرت عیسیٰؑ سے نسبت نے عظمت عطا کی جبکہ حضرت فاطمہ الزہراؓ کو کئی عظیم نسبتوں اور اوصاف نے ممتاز مقام عطا کیا اقبال نے عورت کی تربیتی اور تہذیبی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

یہ شعر عورت کے وجود کو انسانی زندگی تہذیب خاندان اور معاشرتی تشکیل کے بنیادی عناصر میں شمار کرتا ہے عورت صرف خاندان کی تشکیل کا ذریعہ نہیں بلکہ علم فکر تربیت سماجی شعور اور قومی کردار کی تعمیر میں بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے اقبال کا پیغام یہ ہے کہ عورت کو اس کی فطری صلاحیتوں علمی استعداد اور تخلیقی قوت کے اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے ایک تعلیم یافتہ عورت صرف اپنی ذات کو نہیں سنوارتی بلکہ آنے والی نسلوں کی فکر کردار اور علمی سمت کی تشکیل میں بھی حصہ لیتی ہے قیادت کا حقیقی معیار منصب نہیں وژن اور کردار

قیادت صرف اختیار عہدے یا انتظامی فیصلوں کا نام نہیں حقیقی قیادت وہ ہے جو مشکلات میں راستہ دکھائے محدود وسائل میں امکانات تلاش کرے ادارے میں اعتماد پیدا کرے اور لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحرک کرے ڈاکٹر شازیہ انجم کی وائس چانسلر شپ کے دو سال اس حوالے سے ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے بدلتے تقاضوں ادارہ جاتی ترقی اور جنوبی پنجاب کی سماجی و معاشی ضروریات کے تناظر میں ان کے قیادتی کردار اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو کی جائے ایک جامعہ کی اصل پہچان صرف اس کی عمارتوں ڈگری پروگراموں یا انتظامی ڈھانچے سے نہیں بنتی بلکہ اس کے علمی ماحول تحقیقی سرگرمیوں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی طالبات کی صلاحیتوں اور معاشرے کے ساتھ اس کے روابط سے تشکیل پاتی ہے

ایک وائس چانسلر کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمی معیار تحقیق جدت شفافیت انتظامی حکمتِ عملی اور انسانی وسائل کی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھے اس کے لیے فکری پختگی معاملہ فہمی دانش مندی حوصلہ اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے ذہانت دانش مندی اور مضبوط اعصاب قیادت کی اصل قوت علمی قابلیت انسان کو سوچنے کا سلیقہ دیتی ہے دانش مندی اسے درست سمت میں فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے اور مضبوط اعصاب اسے مشکلات کے سامنے ثابت قدم رکھتے ہیں تعلیمی قیادت میں ان تینوں عناصر کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے

یونیورسٹی کی سربراہی محض دفتری امور کی نگرانی نہیں بلکہ مختلف علمی انتظامی مالیاتی سماجی اور انسانی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کا نام ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ قیادت تنقید کو سنے اختلافِ رائے کو علمی ترقی کا ذریعہ سمجھے اجتماعی مشاورت کو اہمیت دے اور ادارے کے طویل المدتی مفاد کو ترجیح دے ڈاکٹر شازیہ انجم کے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی فکری صلاحیت علمی وابستگی حکمتِ عملی اور ثابت قدمی کو خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کسی بھی قیادت کی پائیدار کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس کے دور میں ادارے کا علمی تشخص تحقیقی معیار انتظامی نظام اور طالبات کے لیے مواقع کس حد تک مضبوط ہوئے خواتین کی خودمختاری ڈگری سے فیصلہ سازی اور معاشی آزادی تک خواتین کی جامعہ کی ذمہ داری صرف ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں بلکہ ایسی خود اعتماد باصلاحیت باوقار اور معاشی طور پر خود مختار خواتین تیار کرنا ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں جنوبی پنجاب میں خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مالی خواندگی ڈیجیٹل مہارتوں کاروباری تربیت قیادت تحقیق روزگار اور خود روزگاری کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں مالیاتی اداروں کمرشل بینکوں مائیکروفنانس اداروں سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کو فروغ دیا جا سکتا ہے خواتین کی انٹرپرینیورشپ ڈیجیٹل مارکیٹنگ ای کامرس فری لانسنگ فوڈ پروسیسنگ ماحول دوست کاروبار اور مقامی وسائل پر مبنی چھوٹے کاروبار طالبات کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں اسی طرح زراعت لائیو اسٹاک ماحولیات فوڈ سکیورٹی موسمیاتی تبدیلی اور دیہی ترقی جیسے موضوعات کو موجودہ تعلیمی شعبوں کے ساتھ بین الشعبہ جاتی انداز میں منسلک کیا جا سکتا ہے اس سے طالبات کو جدید معاشی اور سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا

نئے کیمپس اور ادارہ جاتی ترقی امکانات کا نیا افق

نئے کیمپس کا قیام اور وہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے اہم امکانات فراہم کرتا ہے تاہم اس پیش رفت کی پائیدار کامیابی کا انحصار معیاری تدریس قابل اساتذہ جدید تحقیقی سہولیات ڈیجیٹل انفراسٹرکچر طالبات کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ دنیا سے روابط پر ہوگا ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعہ کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تحقیق جدت کاروباری تربیت سماجی خدمت اور علاقائی ترقی کا مرکز بنایا جائے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی مشترکہ تحقیقی منصوبے دیگر جامعات کے ساتھ علمی تعاون انٹرن شپ کیریئر کونسلنگ اور کمیونٹی انگیجمنٹ مستقبل کی اہم ترجیحات ہونی چاہئیں حدیثِ نبوی ﷺ: بیٹیوں کی تربیت اور عزت کا مقام رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی عظمت کو واضح فرمایا

صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں تو قیامت کے دن وہ میرے ساتھ اس طرح ہوگا اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ)

یہ تعلیم بیٹیوں کی پرورش عزت محبت تربیت اور ذمہ داری کو غیر معمولی اہمیت عطاء کرتی ہے بیٹیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان کی صلاحیتوں کو محدود کرنا یا انہیں ترقی کے مواقع سے دور رکھنا اس عظیم تربیتی تصور کی روح کے منافی ہے اسی طرح علم کے حصول کی فضیلت سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی معروف حدیث ہے

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ

ترجمہ جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے یہ پیغام مرد و عورت دونوں کے لیے علم کی اہمیت اس کی طلب اور اس کے حصول کی فضیلت کو اجاگر کرتا ہے

احمد پور شرقیہ اور جنوبی پنجاب کا فخر

کچھ کامیابیاں انفرادی نہیں رہتیں بلکہ پورے علاقے کی اجتماعی خوشی اور شناخت بن جاتی ہیں ڈاکٹر شازیہ انجم کا تعلیمی سفر احمد پور شرقیہ بہاولپور اور وسیع تر جنوبی پنجاب کی ان بیٹیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے جو اپنی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اعلیٰ مناصب تک پہنچنے کا خواب دیکھتی ہیں یہ خطہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے یہاں کی طالبات میں ذہانت تخلیقی سوچ محنت اور قیادت کی بھرپور استعداد موجود ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم محفوظ تعلیمی ماحول تحقیق کے مواقع معاشی رہنمائی اور سماجی اعتماد فراہم کیا جائے احمد پور شرقیہ کے لیے یہ ایک باعثِ مسرت پہلو ہے کہ اسی خطے سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے ایک اہم ادارے کی قیادت کر رہی ہے ان کا سفر والدین اساتذہ اور طالبات کے لیے یہ پیغام رکھتا ہے کہ کسی بھی بیٹی کے خوابوں کی حد اس کا آبائی شہر یا معاشرتی حالات نہیں بلکہ اس کا عزم، علم اور جدوجہد متعین کرتے ہیں

دو سالہ سفر سے مستقبل کے وژن تک دو سال مکمل ہونے کے اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم کو دلی مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دعا ہے کہ ان کا آئندہ سفر مزید علمی کامیابیوں تحقیقی ترقی ادارہ جاتی استحکام خواتین کی خودمختاری اور جنوبی پنجاب کی تعلیمی ترقی کا ذریعہ بنے

ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور ایک ایسے جامع تعلیمی وژن کو آگے بڑھائے جہاں طالبات صرف ڈگری حاصل کرنے والی نہیں بلکہ علم پیدا کرنے والی تحقیق کرنے والی مسائل حل کرنے والی کاروبار شروع کرنے والی اور معاشرتی تبدیلی کی قیادت کرنے والی شخصیات بنیں اقبال کے اس پیغام کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی تعمیر میں ہر فرد کی صلاحیت اہم ہے اور خواتین کو ان کی علمی و عملی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے بغیر قومی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا ڈاکٹر شازیہ انجم کا سفر ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ایک بیٹی کی تعلیم صرف اس کی ذات کی ترقی نہیں بلکہ ایک خاندان کی فکری تربیت ایک معاشرے کی سماجی تبدیلی اور ایک قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے احمد پور شرقیہ کی ایک طالبہ سے گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر تک کا یہ سفر جنوبی پنجاب کی بیٹیوں کے لیے ایک پیغامِ امید ہے یہ سفر اس یقین کو مضبوط کرتا ہے کہ جب بیٹیوں کو تعلیم اعتماد اور مواقع دیے جاتے ہیں تو وہ اپنی صلاحیتوں سے تاریخ کے نئے باب رقم کر سکتی ہیں آپ کا سفر ایک بیٹی کے خواب کی تعبیر ایک ماں باپ کی امید کی تکمیل اور جنوبی پنجاب کی بیٹیوں کے لیے امکانات کا روشن استعارہ ہے دو سالہ قیادت کی تکمیل پر دلی مبارک باد احمد پور شرقیہ کو اپنی بیٹی پر فخر ہے بہاولپور کو اپنی علمی قیادت پر ناز ہے اور جنوبی پنجاب کو اپنی باصلاحیت خواتین کے روشن مستقبل سے امید ہے بیٹی کو تعلیم دو اسے اعتماد دو اسے آگے بڑھنے کا موقع دو کیونکہ بیٹی صرف گھر کی رونق نہیں، قوم کے مستقبل کی معمار بھی ہے تاریخ صرف عہدوں پر فائز ہونے والوں کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان شخصیات کو بھی یاد رکھتی ہے جو اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے نئے راستے کھول جاتی ہیں وہ صرف ایک یونیورسٹی کی وائس چانسلر نہیں بلکہ ہر اس بیٹی کے خواب کی علامت ہیں جو علم کے ذریعے اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتی ہے علم کردار اور خودی سے روشن ہو ہر بیٹی کا مقدر

تحریر: ڈاکٹر محمد حامد نواز خان ایگریکلچر ایکسٹینشن ایجوکیشنسٹ سماجی کارکن سینئر فیکلٹی ممبر دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور