Advertisements

پرنس بہاول عباسی کی صوبہ بحالی مہم جاری حاصل پور،قائم پور اور خیرپور ٹامیوالی میں جگہ جگہ والہانہ استقبال

Prince Bahawal Abbasi's province restoration campaign continues; he received enthusiastic welcomes at various places in Hasilpur, Qaimpur, and Khairpur Tamewali.
Advertisements

تحصیل بار ایسوسی ایشن حاصل پور کے صدر عبدالجبار اور سینئر وکلاء کا صوبہ بحالی کے مطالبے کی حمایت کا اعلان , خیرپور ٹامیوالی، قائم پور اور حاصل پور پریس کلبوں میں پریس کانفرنسیں، حاصل پور پریس کلب میں بحالی صوبہ بہاولپور سیمینار سے خطاب

حاصل پور (ذوالفقار علی قائم خانی+نامہ نگار): قائد بہاولپور صوبہ محاذ و ولی عہد بہاولپور پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا ہے کہ حاصل پور کے غیور عوام کا جوش و جذبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کی تحریک اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

Advertisements

پرنس بہاول عباس خان عباسی نے یہ بات حاصل پور اور خیرپور ٹامیوالی کی تحصیلوں کے دورے کے دوران کہی۔ وہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کی جاری عوامی مہم کے سلسلے میں مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔

حاصل پور پہنچنے پر پرنس بہاول عباس خان عباسی کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کے استقبال کے لیے مختلف مقامات پر ان کے حامی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ کارکنوں اور حامیوں نے نعرے لگائے جبکہ مختلف مقامات پر ان کی گاڑی اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اس موقع پر عوامی جوش و خروش نمایاں تھا اور شرکاء نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

تحصیل بار ایسوسی ایشن حاصل پور میں خطاب

دورے کے دوران پرنس بہاول عباس خان عباسی نے تحصیل بار ایسوسی ایشن حاصل پور سے بھی خطاب کیا۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالجبار اور دیگر سینئر وکلاء نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے اور اس سلسلے میں جاری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔

پرنس بہاول عباسی نے وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کسی ایک فرد یا تنظیم کا مطالبہ نہیں بلکہ خطے کے عوام کا دیرینہ، تاریخی اور آئینی مطالبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور کے عوام اپنے تاریخی تشخص، انتظامی حقوق اور بہتر طرز حکمرانی کے حصول کے لیے اس مطالبے کو جمہوری اور آئینی انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

خیرپور ٹامیوالی، قائم پور اور حاصل پور میں پریس کانفرنسیں

پرنس بہاول عباس خان عباسی نے خیرپور ٹامیوالی، قائم پور اور حاصل پور پریس کلبوں میں پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کیا، جہاں انہوں نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے تاریخی، آئینی اور انتظامی مقدمے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور کی تاریخ، اس کی سابقہ انتظامی حیثیت اور قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں اس کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

حاصل پور پریس کلب میں بحالی صوبہ بہاولپور سیمینار

حاصل پور پریس کلب قائم خانی میڈیا گروپ کے زیر اہتمام بحالی صوبہ بہاولپور سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت سردار زوار خان عباسی نے کی جبکہ پرنس بہاول عباس خان عباسی مہمان خصوصی تھے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی محض کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ خطے کے عوام کا تاریخی، آئینی اور جمہوری مطالبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے وقت بہاولپور کی سابقہ صوبائی حیثیت بحال نہ کرنا خطے کے عوام کے ساتھ ناانصافی تھی، جس کے اثرات آج پسماندگی، محرومی، بے روزگاری اور ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی صورت میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست بہاولپور نے قیام پاکستان اور اس کے استحکام میں اہم اور ناقابل فراموش کردار ادا کیا، لیکن افسوس کہ آج بھی اس خطے کے عوام اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا کہ وہ بہاولپور خطے کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کا دورہ کرکے عوام کو صوبہ بحالی کے مطالبے پر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حاصل پور کے غیور عوام کا جذبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کی تحریک اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

انہوں نے حکومت اور تمام متعلقہ حلقوں سے مطالبہ کیا کہ بہاولپور کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے صوبہ بہاولپور بحال کیا جائے تاکہ خطے کے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کا ازالہ ہوسکے۔

صوبہ بہاولپور کا تاریخی اور انتظامی پس منظر

سیمینار اور پریس کانفرنسوں کے دوران صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کا تاریخی اور انتظامی پس منظر بھی بیان کیا گیا۔

ریاست بہاولپور اٹھارہویں صدی میں عباسی حکمرانوں کے دور میں قائم ہوئی اور اس خطے میں ایک منظم ریاستی نظام تشکیل پایا، جس کے تحت حکومت، انتظامیہ، عدلیہ اور مالیاتی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے رہے۔ بہاولپور نے اپنی منفرد تہذیبی اور ثقافتی شناخت بھی برقرار رکھی اور تعلیم، ادب، فلاحی سرگرمیوں اور دیگر شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

1947ء میں قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاولپور نے پاکستان سے الحاق کیا۔ نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے پاکستان کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں بہاولپور کی جانب سے مختلف نوعیت کے مالی و انتظامی تعاون کا بھی ذکر ملتا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بھی بہاولپور کی الگ انتظامی شناخت فوری طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بعد ازاں آئینی اور انتظامی تبدیلیوں کے نتیجے میں اس کی حیثیت تبدیل ہوتی رہی۔

1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے مختلف صوبوں اور ریاستی علاقوں کو ایک مشترکہ انتظامی اکائی میں شامل کردیا گیا، جس کے نتیجے میں بہاولپور کی الگ انتظامی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔

1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد سابقہ صوبائی ڈھانچہ بحال ہوا، تاہم بہاولپور کو اس کی سابقہ صوبائی حیثیت واپس نہ مل سکی اور اس کا علاقہ پنجاب میں شامل رہا۔

صوبہ بحالی کے حامیوں کے مطابق یہی تاریخی پس منظر بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

بہتر انتظامی نظام اور متوازن ترقی کی ضرورت

صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کو صرف ماضی کی یاد یا جذباتی وابستگی تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے حامی اسے بہتر انتظامی سہولیات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، عوام تک حکومتی اداروں کی رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور متوازن علاقائی ترقی سے بھی جوڑتے ہیں۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ بڑے انتظامی یونٹ کے دور دراز علاقوں کے مسائل کو ایک ہی مرکز سے مؤثر طور پر حل کرنا مشکل ہوسکتا ہے، اس لیے قریبی انتظامی مرکز اور مقامی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی عوامی سہولیات میں بہتری کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی شرکت

سیمینار سے ذوالفقار علی قائم خانی، سردار زوار خان عباسی، نعیم یوشا، فیاض کھوکھر، علامہ زوار حسین عطاری اور علامہ عبدالوحید عالی نے بھی خطاب کیا۔

مقامی معززین، وکلاء، صحافیوں، تاجر برادری، علماء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سیمینار میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مقررین نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اس جدوجہد کو آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

پرنس بہاول عباس خان عباسی کی حاصل پور پریس کلب آمد پر بھی ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

حاصل پور، قائم پور اور خیرپور ٹامیوالی کے دورے اور مختلف طبقات سے ملاقاتیں صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کے سلسلے میں جاری اس مہم کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے خطے میں عوامی اور ادارہ جاتی حمایت کو منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔