پرنس بہاول عباس خان عباسی کا ضلع بہاولپور کے دریائی علاقوں کے حفاظتی بندوں کے تحفظ کے لیے پی ڈی ایم اے اور بہاولپور انتظامیہ سے خصوصی اقدامات کا مطالبہ
امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی نے 1992 کے سیلاب میں وزیراعظم محمد نواز شریف کو احمدپور شرقیہ کے لیفٹ مارجنل بند میں شگاف نہ ڈالنے پر آمادہ کیا، پرنس بہاول عباس خان عباسی
مدیر اعلیٰ روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ احسان احمد سحر کی اقامت گاہ پر آمد، احمدپور شرقیہ اور اوچشریف کے سینئر صحافیوں سے متوقع سیلابی صورتحال پر تفصیلی گفتگو
احمدپور شرقیہ (سٹاف رپورٹر)
امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا ہے کہ متوقع سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ کو ضلع بہاولپور کے دریائی علاقوں میں حفاظتی بندوں کی حفاظت، مضبوطی، تعمیر و مرمت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جرنلسٹس الائنس پاکستان کے بانی اور مدیر اعلیٰ روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ احسان احمد سحر کی اقامت گاہ پر ملاقات کے دوران کیا، جہاں انہوں نے احمدپور شرقیہ اور اوچشریف کے سینئر صحافیوں سے متوقع سیلابی صورتحال، حفاظتی انتظامات اور دریائی علاقوں کو درپیش خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر پرنس بہاول عباس خان عباسی کے ہمراہ سٹاف آفیسر سردار یحییٰ خان کلاچی، پرسنل اسسٹنٹ احمد انصاری اور سیاسی رہنما جام فہد جھلن بھی موجود تھے، جبکہ اوچشریف پریس اینڈ میڈیا کلب (رجسٹرڈ) کے چیف آرگنائزر ارشاد احمد شاد، احمدپور یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے جنرل سیکرٹری حمید اللہ خان عزیز اور چیئرمین احمد علی چوہدری نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے کہا کہ تحصیل احمدپور شرقیہ، بالخصوص سب تحصیل اوچشریف کے دریائی علاقے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل تباہ کن سیلابوں کی زد میں رہے ہیں۔ 1973، 1992 اور 2010 کے بڑے سیلابوں اور گزشتہ سال 2025 میں بھی آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہزاروں مویشی ہلاک کیے، زرعی اراضی اور عوام کی کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم اب تک حفاظتی انتظامات میں مطلوبہ بہتری نہیں لائی جا سکی۔
انہوں نے کہا کہ دریائی علاقوں کے حفاظتی بندوں کی مسلسل نگرانی، بروقت مرمت اور مضبوطی ہی مستقبل میں ممکنہ تباہی سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے اور حکومت کو اس حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے 2025 کے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں شفافیت نہ ہونے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں اور بہت سے متاثرہ خاندان حکومتی امداد سے محروم رہے۔ ان شکایات کے بعد انہوں نے کمشنر بہاولپور ڈویژن مسرت جبین سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور ان کی موجودگی میں ضلعی انتظامیہ کو امداد سے محروم متاثرین کے لیے خیموں اور اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے احکامات جاری کیے۔
ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی نے ستمبر 1992 کے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان کے والد امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی تحصیل احمدپور شرقیہ سے رکن قومی اسمبلی تھے۔ انہوں نے ہیڈ پنجند ریسٹ ہاؤس میں انتظامی افسران کی موجودگی میں اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ سابق ریاست بہاولپور کے دور میں تیار کیے گئے ہیڈ پنجند بیراج منصوبے کے مطابق احمدپور شرقیہ کی جانب واقع لیفٹ مارجنل بند میں شگاف نہ ڈالا جائے بلکہ ہیڈ پنجند بیراج کو محفوظ رکھنے اور سیلابی دباؤ کم کرنے کے لیے علی پور کی جانب رائٹ مارجنل بند میں شگاف ڈالا جائے، جس پر عمل کیا گیا۔
پرنس بہاول عباس خان عباسی نے 1973 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر نے اپنے آبائی ضلع مظفرگڑھ کو سیلاب سے بچانے کے لیے احمدپور شرقیہ کے لیفٹ مارجنل بند میں شگاف ڈلوایا، جس کے نتیجے میں ضلع بہاولپور اور ضلع رحیم یار خان کے وسیع علاقے شدید تباہی سے دوچار ہوئے، زرعی اراضی، مویشیوں اور عوامی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہاولپور کی ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ متوقع سیلابی صورتحال کے پیش نظر بروقت اور مؤثر اقدامات کرے گی، حفاظتی بندوں کو مضبوط بنائے گی اور ضلع بہاولپور کے دریائی علاقوں میں آباد ہزاروں کسانوں اور شہریوں کے جان و مال، مویشیوں اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔

