Advertisements

بہاولپور صوبے کی بحالی کے لیے پرنس بہاول عباس خان عباسی کی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے اپیل

Prince Bahawal Abbas Khan Abbasi Appeals to Heads of Major Political Parties for Restoration of Bahawalpur Province
Advertisements

مئی  2012 ء کو پنجاب اسمبلی سے منظور متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ، بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کرنے پر زور


 امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے صاحبزادے پرنس بہاول عباس خان عباسی نے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ بہاولپور کی سابقہ صوبائی حیثیت بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بہاولپور ڈویژن کے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ عوام گزشتہ سات دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت بہاولپور نے جس اعتماد اور وفاداری کے ساتھ اپنی ریاست، خزانہ، وسائل اور ریاستی مشینری پاکستان کے سپرد کی تھی، اس تاریخی پس منظر میں بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ ہے۔

Advertisements

محترم رہنماؤں کے نام

1۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی، جناب بلاول بھٹو زرداری / صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری
2۔ صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)، میاں محمد نواز شریف / وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف
3۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف، بیرسٹر گوہر علی خان
4۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف)، مولانا فضل الرحمٰن صاحب
5۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمٰن صاحب

میں آپ کو صرف امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے فرزند کی حیثیت سے نہیں بلکہ خود بہاولپور کی سرزمین کے ایک بیٹے اور بہاولپور ڈویژن کے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ عوام کی آواز کی حیثیت سے یہ خط لکھ رہا ہوں، جن کے دل گزشتہ سات دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔

یہ اپیل آپ کے ضمیر، وفاقِ پاکستان سے آپ کی وابستگی اور بانیٔ پاکستان کی جانب سے میرے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے حوالے سے ہے۔ میں یہ خط پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کی قیادت کو مشترکہ طور پر لکھ رہا ہوں، کیونکہ بہاولپور کا معاملہ کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں رہا اور نہ ہی اسے ایسا بننا چاہیے۔ یہ پورے وفاق کا معاملہ ہے اور اس کے حل کے لیے ہر اس سیاسی جماعت کی نیک نیتی اور تعاون درکار ہے جو عوام کی نمائندگی کی دعوے دار ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت کیا گیا وعدہ

میرے پردادا نواب صادق محمد خان نے 1942ء ہی میں قائداعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اگر پاکستان کے قیام کے دوران انہیں کسی مشکل کا سامنا ہو تو ریاست بہاولپور کی سرزمین پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا جائے اور نئی مملکت کے قیام کا اعلان کر دیا جائے۔

1947ء میں جب پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو بہاولپور کا خزانہ، سونا اور ریاستی مشینری سب پاکستان کے قدموں میں پیش کر دی گئی۔ یہ ایک مقدس امانت تھی۔

ریاست بہاولپور ان اولین ریاستوں میں شامل تھی جنہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ آزادی کے چند ہی ہفتوں بعد 5 اکتوبر 1947ء کو ریاست بہاولپور کے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے گئے، ایسے وقت میں جب نئی مملکت پاکستان کا مستقبل ابھی پوری طرح یقینی نہیں تھا۔

یہ کوئی مجبوری یا مفاد پر مبنی اتحاد نہیں تھا بلکہ نواب صادق محمد خان اور ریاست بہاولپور کے عوام کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور ایسے وفاق کے تصور پر اعتماد کا عملی اظہار تھا جو اپنی اکائیوں کی شناخت، وسائل اور خود اختیاری کا احترام کرے۔

بعد ازاں ریاست بہاولپور اور حکومت پاکستان کے درمیان باقاعدہ معاہدے بھی طے پائے۔ گورنر جنرل کی حکومت کے ساتھ ہونے والے انتظام کے تحت صوبائی نوعیت کے معاملات ریاست بہاولپور کے اپنے اداروں کے ذریعے چلائے جانے تھے، جبکہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے شعبے مرکز کے سپرد کیے گئے تھے۔

بہاولپور کی 49 ارکان پر مشتمل قانون ساز اسمبلی نے 1952ء میں کام شروع کیا اور اس خطے کے عوام کو اپنے معاملات میں حقیقی نمائندگی فراہم کی، جبکہ پاکستان میں پہلے عام انتخابات 1970ء کی دہائی میں ہوئے۔

یہ وعدہ 1955ء میں ختم کر دیا گیا جب بہاولپور کو ون یونٹ کے نظام میں شامل کر لیا گیا اور انتظامی حکم کے ذریعے اس کی علیحدہ صوبائی حیثیت ختم کر دی گئی، حالانکہ بہاولپور کے عوام کو اپنی رائے کے اظہار اور رضامندی کا حق حاصل تھا۔

1970ء میں ون یونٹ کے خاتمے اور مغربی پاکستان کے صوبوں کی بحالی کے بعد بھی صرف بہاولپور کو اس بحالی میں شامل نہیں کیا گیا اور آج تک اسے پنجاب کا حصہ بنا کر رکھا گیا ہے۔

یہ وہ ناانصافی ہے جس کی اصلاح کے لیے میں پاکستان کی بڑی سیاسی قوتوں کے ذمہ داران سے مدد کی اپیل کر رہا ہوں۔

خود کفالت اور ترقی کی ایک شاندار میراث

یہ اپیل محض ماضی کی یادوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی شواہد اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر ہے۔

ریاست بہاولپور کے انضمام سے قبل کے برسوں میں یہ برصغیر کے ترقی یافتہ اور مالی طور پر خود کفیل علاقوں میں شمار ہوتی تھی۔ ریاست کی اپنی کرنسی، ڈاک کا نظام، عدلیہ، سول انتظامیہ، مسلح افواج اور تعلیمی نظام موجود تھا۔

صادق ایجرٹن کالج جیسے اداروں نے دانشوروں، سرکاری افسران اور پیشہ ور افراد کی ایسی نسلیں تیار کیں جنہوں نے بعد ازاں پاکستان کی اعلیٰ سطح پر خدمات انجام دیں۔

ہماری ریاست نے 1932-33ء میں ستلج ویلی کینال سسٹم تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے تحت تین مختلف مقامات پر ہیڈ ورکس تعمیر کیے گئے اور 15 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لیے نہریں بنائی گئیں۔ یہ نوآبادیاتی ہندوستان کے بڑے آبپاشی منصوبوں میں سے ایک تھا۔

سلیمانکی، اسلام اور پنجند کے مقامات پر ہیڈ ورکس تعمیر کیے گئے جبکہ فورڈواہ، ایسٹرن صادقیا اور بہاول سمیت مختلف نہروں کے ذریعے وسیع نہری نظام قائم کیا گیا۔

ستلج ویلی منصوبے کے بعد ریاست کی آمدنی دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی جبکہ زیرِ کاشت رقبہ چار گنا تک بڑھ گیا۔

ہم ان اولین ریاستوں میں شامل تھے جہاں اے لیول تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی تھی۔ ریاست بھر میں پرائمری اور ہائی اسکولوں، کالجوں اور جامعہ عباسیہ، جو اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے نام سے معروف ہے، کا تعلیمی نظام فعال تھا۔

1951ء میں مرحوم حکمران نے صادق پبلک اسکول کی تعمیر کے لیے 500 ایکڑ زمین عطیہ کی۔ یہ ادارہ 300 ایکڑ سے زائد وسیع رقبے پر قائم کیمپس میں قائم ہوا۔ اس کے علاوہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال، صادق ایجرٹن کالج اور بے شمار اسکول اور کالج بھی ریاست کی تعلیمی و سماجی ترقی کا حصہ تھے۔

بہاولپور خود کفیل، خوشحال، تعلیم یافتہ اور انصاف پر مبنی ریاست تھی۔ اگر ہم 1920ء اور 1930ء کی دہائی میں صحرائی خطے میں ایک ریاست کی حیثیت سے یہ سب کچھ حاصل کر سکتے تھے تو تصور کیجیے کہ 2026ء میں آئینی طور پر پاکستان کے ایک صوبے کی حیثیت سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

ستلج ویلی نہری نظام نے وسیع صحرائی علاقوں کو زرخیز زرعی زمین میں تبدیل کر دیا اور بہاولپور کو پاکستان کے اناج گھر کے لیے ایک معاون خطہ بنا دیا، نہ کہ اس پر انحصار کرنے والا علاقہ۔

پاکستان کے قیام کے ابتدائی اور انتہائی مشکل برسوں میں بہاولپور کے حکمران نے نئی وفاقی حکومت کو فراخ دلانہ مالی تعاون فراہم کیا۔ اس حقیقت کو آج بھی اس خطے کے عوام پاکستان سے اپنی وفاداری کے ثبوت کے طور پر فخر سے یاد کرتے ہیں۔

یہ وفاداری کبھی اس شرط سے مشروط نہیں تھی کہ بہاولپور ایک ریاست ہی رہے، لیکن اس کے ساتھ یہ توقع ضرور وابستہ تھی کہ بہاولپور کو وفاق میں ایک مساوی شراکت دار سمجھا جائے گا، نہ کہ ایک بڑے صوبے کا نظر انداز شدہ ڈویژن۔

یہ تاریخ اس سوال کا جواب بھی دیتی ہے جو اکثر صوبوں کی بحالی کی تحریکوں کے خلاف اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ایک چھوٹی انتظامی اکائی اپنے معاملات چلانے اور خود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

بہاولپور اپنی تاریخ میں یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ یہ صلاحیت رکھتا ہے۔

ادھورا وعدہ

نو مئی 2012ء کو ایک غیر معمولی سیاسی اتفاقِ رائے کے موقع پر پنجاب اسمبلی نے بہاولپور کو صوبے کی حیثیت بحال کرنے کی باقاعدہ حمایت میں قرارداد منظور کی۔ اس کے ساتھ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے بھی الگ قرارداد منظور کی گئی۔

یہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے پیش ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔

بعد کے برسوں میں قومی اسمبلی میں بھی اسی مقصد کے لیے آئینی ترامیم کے بل زیرِ بحث آئے۔ پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی سمیت سیاسی میدان کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے مختلف مواقع پر بہاولپور کی منفرد انتظامی شناخت کی بحالی کے اصول کی حمایت کا اظہار کیا۔

مسئلہ سیاسی اتفاقِ رائے کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس متفقہ قرارداد کو آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت عملی آئینی حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل اور اجتماعی سیاسی عزم کا فقدان ہے۔

میں آپ سب سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس قرارداد پر دوبارہ غور کریں۔ اسے محض تاریخ کا ایک حوالہ نہ سمجھیں بلکہ پنجاب اسمبلی کی ایک موجودہ اور قائم سیاسی وابستگی کے طور پر دیکھیں، جس کی تشکیل میں آپ کی جماعتوں نے کردار ادا کیا تھا۔

میں مطالبہ کرتا ہوں کہ بہاولپور صوبے کی بحالی کو مزید تاخیر کے بغیر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے قانون سازی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

صرف حدود کی نہیں، اعتماد کی بحالی

یہ اپیل علیحدگی پسندی کے جذبے کے تحت نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کا مقصد پنجاب یا وفاق کو کمزور کرنا ہے۔

یہ اپیل اس یقین کی بنیاد پر ہے کہ عوام کو ان کے قریب بہتر طرزِ حکمرانی فراہم کرنا ہی ایک مضبوط وفاق کی بنیاد ہے۔

جب بہاولپور جیسا وسیع اور تاریخی طور پر منفرد خطہ، جس میں بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع شامل ہیں، ایسے صوبے کے ایک دور دراز ڈویژن کے طور پر چلایا جائے جس کا انتظامی مرکز کہیں اور ہو تو اس خطے کے عوام کو لازماً یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی سڑکوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور پانی سے متعلق فیصلے ان کی شمولیت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔

یہ انتظامی فاصلے کا احساس ایک ایسی خاموش بیگانگی کو جنم دیتا ہے جسے محض وفاقی نعروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بحال شدہ صوبہ، جس کی اپنی اسمبلی، اپنا بجٹ اور اپنے ووٹروں کے سامنے براہِ راست جواب دہ حکومت ہو، پاکستان کو کمزور نہیں کرے گا بلکہ وفاق کو مزید مضبوط بنائے گا۔

اس سے بہاولپور کے عوام کو اپنے علاقے کی کامیابی میں حقیقی شراکت ملے گی اور ایسی حکومت میسر ہوگی جسے وہ دیکھ سکیں، اس سے سوال کر سکیں اور اسے جواب دہ ٹھہرا سکیں۔

میں آپ کی تمام جماعتوں سے مطالبہ کروں گا کہ اس مطالبے پر غور کرتے ہوئے شفاف طرزِ حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نئے صوبے کے انتظامی اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے بھی واضح اور مضبوط عزم کا اظہار کریں، تاکہ صوبے کی بحالی محض علامتی اقدام نہ ہو بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں حقیقی بہتری لائے۔

صرف اسی صورت میں بہاولپور کے عوام ایک مرتبہ پھر خود کو اسی طرح مکمل اور باوقار انداز میں وفاقِ پاکستان سے جڑا ہوا محسوس کریں گے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے 1947ء میں محسوس کیا تھا۔

آپ کے ضمیر اور سیاسی ورثے کے نام اپیل

آپ میں سے ہر سیاسی جماعت نے ہماری تاریخ کے مختلف ادوار میں بہاولپور کے عوام کے سامنے آکر 1955ء میں چھینی گئی حیثیت کی بحالی کی بات کی ہے۔

میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اب ان وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور مل کر اس مقصد کو جماعتی سیاست سے بلند کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے میں 2012ء میں اس مطالبے کے لیے آپ کی قیادت کی جانب سے دی جانے والی حمایت کو یاد دلاتا ہوں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بہاولپور کی بحالی کی وہی قرارداد آپ کی جماعت نے پیش کی تھی جو آج بھی تکمیل کی منتظر ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے میری اپیل ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوام کو بااختیار بنانے کی جس سیاست کو آپ اپنی پہچان سمجھتے ہیں، اسے عملی طور پر بہاولپور تک بھی وسعت دی جائے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کی قیادت، جس نے طویل عرصے سے پاکستان کے نظر انداز کیے گئے علاقوں کی محرومیوں کو سمجھا ہے، سے میری درخواست ہے کہ پارلیمان میں اپنی آواز بلاشرط اس مقصد کے لیے بلند کریں۔

بہاولپور کے عوام خیرات نہیں مانگتے۔ وہ صرف اس حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں جسے ان کے آباؤ اجداد نے اس اعتماد کے ساتھ پاکستان کے حق میں چھوڑا تھا کہ پاکستان اپنے وعدے کی پاسداری کرے گا۔

میں آپ سب سے، جو اس ملک کی تقدیر کے امین ہیں، اپیل کرتا ہوں کہ مختصر مدتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اس دیرینہ اور متفقہ طور پر منظور شدہ مطالبے پر عملی اقدام کریں۔

آنے والی نسلیں پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کے بارے میں یہ کہیں کہ اس نسل نے بالآخر قیامِ پاکستان کے وقت بہاولپور سے کیا گیا وعدہ پورا کیا اور اس خطے کو صرف اس کی پرانی حدود ہی نہیں بلکہ اس کی پرانی عزت و وقار بھی واپس لوٹایا۔

میں اس معاملے پر آپ میں سے ہر رہنما سے انفرادی یا مشترکہ طور پر ملاقات کا موقع ملنے پر خوشی محسوس کروں گا تاکہ اس معاملے پر مزید تفصیلی گفتگو کی جا سکے اور بہاولپور صوبے کی بحالی کے تاریخی، قانونی اور انتظامی دلائل آپ کے سامنے پیش کیے جا سکیں۔

نہایت احترام اور امید کے ساتھ

پرنس بہاول عباس عباسی
فرزند نواب صلاح الدین عباسی
امیرِ بہاولپور
صادق گڑھ پیلس، بہاولپور