پرنس بہاول عباس خان عباسی کا صوبہ بہاولپور بحالی تحریک چلانے کا اعلان
صوبہ بہاولپور کی بحالی ہماراآئینی حق ہے ہم کسی سے خیرات نہیں مانگ رہےپنجاب اسمبلی کی 2012 میں منظور شدہ قرارداد کے مطابق صوبہ بہاولپور بحال کیا جائے، بہاولپور ڈویژن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اسمبلیوں کے فلور پر حکمران اتحاد کو اُن سے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے اعلانات پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کریں
میں پہلے مرحلے میں بہاولپور ڈویژن کے تینوں اضلاع کا دورہ کر کے صوبہ بہاولپور کے بحالی کے مطالبہ کو اجاگر کروں گا تاکہ اس تحریک کو دو بارہ منظم کیا جا سکے جسے میرے والد نواب صلاح الدین عباسی نے 2009, میں شروع کیا تھا اور اس سے قبل 1970میں میرے والد صاحب کے چچا شہزادہ مامون الرشید عباسی مرحوم نے اس تحریک کی قیادت کرتے ہوئے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں
ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بھی بہاولپور کو اس کی سابقہ صوبائی حیثیت واپس نہیں دی گئی بلکہ اسے پنجاب میں ضم کر دیا گیا، جس کے باعث بہاولپور کے عوام میں اپنے تاریخی تشخص اور حقوق کے حوالے سے احساس محرومی پیدا ہوا۔ آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود صوبہ بہاولپور کی بحالی کا مطالبہ عوام کے دلوں میں اسی شدت سے موجود ہے۔پرنس بہاول عباس عباسی کی صادق گڑھ پیلس کے اپنے دفتر کے لان میں پرہجوم پریس کانفرنس
احمد پور شرقیہ+ چنی گوٹھ, ( شبیر قریشی + احمد علی چوہدری+ راشد محمود +عبداللہ چوہدری سے ) پرنس بہاول عباس خان عباسی نے صادق گڑھ پیلس کے اپنے دفتر کے لان میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی ان کی زندگی کا مشن ہے جس کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی د یں گے انہوں نے کہا کہ ان کے والد نواب صلاح الدین عباسی کے چچا شہزادہ مامون الرشید عباسی مرحوم کی قیادت میں 1970 میں صوبہ بہاولپور کی بحالی کی تحریک چلائی گئی تھی جس میں وہ جیل بھی گئے جبکہ اس عوامی تحریک میں شہادتیں بھی ہوئیں اور بے شمار افراد کو قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں –
ولی عہد بہاولپور نے کہا کہ 2009 میں ان کے والد نواب صلاح الدین عباسی نے دوبارہ اس تحریک کو زندہ کیا اور اور بہاولپور ڈویژن کے طول و عرض میں زبردست عوامی رابطہ مہم چلائی – انکی بھر پور کوششوں اور جدو جہد کے نتیجہ میں پنجاب اسمبلی نے 2012 میں صوبہ بہاولپور کی بحالی متفقہ قرارداد منظور کی جس پر آج تک عمل در آمد نہیں کیا گیا انہوں نے بہاولپور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اسمبلیوں کی فلور پر بہاولپور صوبہ کی بحالی کے مطالبہ کو پیش کریں کیونکہ یہ بہاولپورکے ایک کروڑ 30 لاکھ عوام کا چھپن سالہ پرانا مطالبہ ہے پرنس بہاول عباسی کا کہنا تھا کہ وہ بہاولپور کے گمشدہ حقوق کی بحالی کے لیے تازیست اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے
چنی گوٹھ سے ہمارے نمائندے عبد اللہ چوہدری کی رپورٹ کے مطابق۔ پرنس بہاول عباس عباسی نے کہا ہے کہ بہاولپور صوبہ کی بحالی کے لیے تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور عوامی حلقوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر متحدہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اس خطے کے عوام کی تاریخی شناخت، حقوق اور احساسِ محرومی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔صادق گڑھ پیلس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرنس بہاول عباس عباسی نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ریاست بہاولپور کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور قیامِ پاکستان کے مشکل دور میں وطنِ عزیز کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحاق کے بعد اس خطے کے عوام کو یہ توقع تھی کہ ان کی تاریخی اور انتظامی شناخت کو برقرار رکھا جائے گا، تاہم بعد ازاں ون یونٹ کے قیام کے نتیجے میں بہاولپور کی الگ حیثیت ختم کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بھی بہاولپور کو اس کی سابقہ صوبائی حیثیت واپس نہیں دی گئی بلکہ اسے پنجاب میں ضم کر دیا گیا، جس کے باعث بہاولپور کے عوام میں اپنے تاریخی تشخص اور حقوق کے حوالے سے احساس محرومی پیدا ہوا۔ آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود صوبہ بہاولپور کی بحالی کا مطالبہ عوام کے دلوں میں اسی شدت سے موجود ہے۔پرنس بہاول عباس عباسی نے کہا کہ بہاولپور ایک عظیم تاریخی ورثے کا حامل خطہ ہے، جس کی اپنی تہذیب، ثقافت، روایات اور تاریخی شناخت ہے۔ اس خطے کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، لہٰذا ان کے دیرینہ مطالبے کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کے لیے کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کی جدوجہد کافی نہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، وکلا، صحافیوں، دانشوروں، طلبہ، تاجر برادری اور سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر تمام حلقے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو اس مطالبے کو مؤثر انداز میں اعلیٰ ایوانوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی جدوجہد آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے آگے بڑھائی جائے گی۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے تاریخی حقوق کے لیے متحد ہوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کریں۔پرنس بہاول عباس عباسی نے حکومت اور سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ بہاولپور کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو محض سیاسی نعرے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس مسئلے پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ شروع کیا جائے، تاکہ خطے کے عوام میں پائی جانے والی محرومیوں کا ازالہ اور ان کی تاریخی شناخت کو مناسب آئینی و انتظامی حیثیت دی جا سکے

