حلقہ پی پی 248 میں ترقی کا تسلسل اور عوامی اعتماد کی بحالی
اداریہ —– 25 جنوری 2026
پنجاب میں عوامی فلاح اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری ترقیاتی اقدامات بلاشبہ خوش آئند ہیں۔ حلقہ پی پی 248 میں خوشحال پنجاب اسکیم کے تحت 11 سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کی منظوری اور ان کے لیے ٹینڈرز کا اجراء اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان منصوبوں کی منظوری پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت حسن عسکری شیخ ایم پی اے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باوقار سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ حلقے میں وہ ایک دیانتدار، شفاف اور عوام دوست سیاستدان کے طور پر اچھی شہرت رکھتے ہیں، جو سیاسی افراتفری کے اس دور میں ایک مثبت مثال ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کو ترجیح دینا نہایت اہم ہے کیونکہ بہتر انفراسٹرکچر ہی کسی بھی علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ احمد پور شرقیہ، یزمان اور گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی بہتری سے نہ صرف عوام کو آمد و رفت میں سہولت ملے گی بلکہ زراعت، تجارت، تعلیم اور صحت کے شعبوں تک رسائی بھی آسان ہو گی۔
حسن عسکری شیخ کا تعلق ایک ایسے سیاسی خانوادے سے ہے جس کی خدمات بہاولپور ڈویژن کی سیاسی تاریخ میں نمایاں رہی ہیں۔ ان کے والد مرحوم شجاع اللہ شیخ یزمان کے حلقے سے ایک مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، جبکہ ان کے دادا مرحوم حفیظ اللہ شیخ سابق ریاست بہاولپور میں بطور وزیر خدمات انجام دے چکے تھے۔ اسی طرح ان کے چچا مرحوم سمیع اللہ شیخ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ ان کے چچا زاد بھائی عارف عزیز شیخ بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ یہ سیاسی پس منظر ایک طرف اعزاز ہے تو دوسری جانب ایک بڑی ذمہ داری بھی۔
تاہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے ساتھ ساتھ ان کی شفاف تکمیل، اعلیٰ معیار اور بروقت نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ ماضی میں متعدد منصوبے ناقص میٹریل اور عدم توجہ کے باعث عوامی فائدہ نہ دے سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ محکمے مکمل نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ درست سمت میں استعمال ہو۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ منصوبے دیانتداری، شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل کر لیے گئے تو یہ نہ صرف حلقہ پی پی 248 بلکہ پورے خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عوام آج نمائندوں سے محض اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔
ہم اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ منتخب نمائندے اسی سنجیدگی اور عوامی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور ترقی کا یہ سفر محض منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی خوشحالی میں عملی طور پر تبدیل ہو گا۔

