پٹرولیم قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عوام پر نیا بوجھ
اداریہ —– 4 اپریل 2026
حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی قوتِ خرید کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس نے عوامی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
ملک میں پہلے ہی اشیائے خوردونوش، بجلی اور گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ براہِ راست نقل و حمل، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی ہر شے کو مزید مہنگا کر دے گا۔ نتیجتاً مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے گی، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔
معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اپنے گزشتہ پروگرام میں اس فیصلے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے یہ دعویٰ کر چکی تھی کہ ملک کے پاس ایک ماہ کا تیل کا ذخیرہ موجود ہے، تو پھر قیمتوں میں فوری اضافے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) کی جانب سے مقرر کردہ محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اعلیٰ سرکاری اہلکاروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہو کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر تقریباً 100 ارب روپے اضافی حاصل کیے جا سکتے ہیں، جسے ایک “موقع” کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ صورتحال نہ صرف معاشی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات اور محصولات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے جیسے اقدامات نظر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر خطے کے دیگر ممالک کا جائزہ لیا جائے تو(بھارت)، (بنگلہ دیش) اور (سری لنکا) میں حکومتوں نے مختلف طریقوں سے عوام کو کسی نہ کسی حد تک ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ پاکستان میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ جب تک حکومت محصولات کے نظام میں بہتری، اخراجات میں کمی اور پالیسی سازی میں شفافیت نہیں لاتی، ایسے اقدامات عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بنتے رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان معاشرتی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا۔

