Advertisements

بیگم صاحبہ امیرِ بہاولپور مرحوم کی رحلت: ریاستی وقار اور روایت کا ایک عہد تمام

Advertisements

اداریہ —- 21 اپریل 2026

ریاستِ بہاولپور کی نہایت معزز اور باوقار شخصیت،  ہر ہائنس بیگم صاحبہ، جو مرحوم امیرِ بہاولپور الحاج بریگیڈیئر نواب محمد عباس خان عباسی کی شریکِ حیات، موجودہ امیرِ بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کی والدہ محترمہ اور ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی کی دادی تھیں، 99 برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات نہ صرف عباسی خاندان بلکہ پورے وسیبِ بہاولپور کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

Advertisements

بیگم صاحبہ ایک ایسے عظیم خاندان کی امین تھیں جس نے تاریخ، تہذیب اور خدمتِ خلق کے اعلیٰ اصولوں کو ہمیشہ زندہ رکھا۔ وہ مرحوم امیرِ بہاولپور الحاج بریگیڈیئر نواب محمد عباس خان عباسی کی رفیقۂ حیات رہیں، جو خود بھی نہ صرف ریاستی وقار کی علامت بلکہ گورنر پنجاب اور وفاقی وزیر کے طور پر ملکی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
بیگم صاحبہ نے اس عظیم روایت کو وقار، سادگی اور مذہبی وابستگی کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنی پوری زندگی خاندانی اقدار اور عوامی احترام کے استحکام کے لیے وقف رکھی۔

ان کی وفات پر صدرِ مملکت سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جبکہ ملک بھر سے سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے ڈیرہ نواب صاحب پہنچ کر نواب صلاح الدین عباسی اور ولی عہد پرنس بہاول عباس خان عباسی سے تعزیت کی۔ خصوصی طور پر دو سابق گورنرز پنجاب اور دیگر ممتاز شخصیات کی آمد اس بات کا واضح اظہار ہے کہ بیگم صاحبہ کی شخصیت قومی سطح پر بھی نہایت احترام کی حامل تھی۔

نمازِ جنازہ صادق گڑھ پیلس میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ دراوڑ کے شاہی قبرستان میں تدفین کے موقع پر بھی عوام کا جمِ غفیر موجود تھا۔ ان کی تدفین ایک ایسے تاریخی تسلسل کا حصہ ہے جہاں عباسی خاندان کے افراد صدیوں سے سپردِ خاک ہوتے آئے ہیں۔

مزید برآں، ان کے مزار پر کور کمانڈر بہاولپور، جنرل آفیسر کمانڈنگ اور ڈیرہ نواب صاحب بریگیڈ کی جانب سے پھولوں کی چادریں چڑھانا اور فاتحہ خوانی کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بیگم صاحبہ کی شخصیت ریاستی، عسکری اور عوامی سطح پر یکساں طور پر قدر و منزلت کی حامل تھی۔ یہ خراجِ عقیدت ریاستِ بہاولپور اور قومی اداروں کے تاریخی تعلق کا مظہر بھی ہے۔

قل کی تقریب میں عوام، معززین اور مختلف طبقات کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کیا کہ بیگم صاحبہ ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں عوام دل کی گہرائیوں سے چاہتے اور احترام دیتے تھے۔ ان کی زندگی سادگی، عبادت گزاری اور خدمت کے اعلیٰ اصولوں کا عملی نمونہ تھی، اور یہی اوصاف انہیں ایک ممتاز اور یادگار شخصیت بناتے ہیں۔

آج جب ہم اس عظیم سانحے پر سوگوار ہیں، تو یہ لمحہ ہمیں اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ ریاستِ بہاولپور کی روایات—وقار، خدمت، اور عوامی وابستگی—کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نواب صلاح الدین عباسی اور ان کا خاندان یقیناً اس غم کی گھڑی میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اسلاف کی روشن روایات کو آگے بڑھائے گا۔

روزنامہ نوائے احمدپور شرقیہ اس عظیم سانحہ پر عباسی خاندان، اہلِ بہاولپور اور تمام سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون