Advertisements

پاکستان۔متحدہ عرب امارات تعلقات: سفارتی تسلسل اور معاشی امکانات

Advertisements

اداریہ —— 30 جنوری 2026

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا حالیہ دورۂ متحدہ عرب امارات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تسلسل، علاقائی استحکام اور معاشی سفارت کاری کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران صدرِ مملکت کی اماراتی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں نے دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

Advertisements

ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اور یو اے ای مستقبل میں محض سفارتی شراکت دار نہیں بلکہ ترقی کے عملی سفر میں ایک دوسرے کے حقیقی معاون بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت پر اظہارِ تشکر ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے، کیونکہ مشکل معاشی حالات میں یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف باہمی مفادات بلکہ عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن پر بھی ہم آہنگ ہیں۔

اسی دورے کے دوران صدرِ مملکت کی امارات کے وزیرِ رواداری و بقائے باہمی شیخ نہیان بن مبارک النہیان سے ملاقات ایک مثبت سماجی و فکری پیغام کی حامل رہی۔ رواداری، شمولیت اور پرامن بقائے باہمی جیسے تصورات آج کی منقسم دنیا میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا 200 سے زائد قومیتوں کو ایک معاشرتی ڈھانچے میں باہم احترام کے ساتھ جوڑنا یقیناً عالمی سطح پر ایک قابلِ تقلید مثال ہے، جسے صدرِ مملکت نے بجا طور پر سراہا۔

دبئی میں اماراتی نائب صدر و وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے ملاقات نے معاشی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کی امید پیدا کی ہے۔ دبئی کا ترقیاتی ماڈل، بندرگاہی نظام، لاجسٹکس اور آئی ٹی کے شعبے پاکستان کے لیے سیکھنے اور اپنانے کے قابل تجربات فراہم کرتے ہیں۔ صدر زرداری کی جانب سے اصلاحات اور نجکاری سے متعلق بریفنگ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی معاشی ترقی میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور وہاں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہا، جو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط انسانی رشتہ ہے۔

بلا شبہ صدرِ مملکت کا یہ دورہ پاکستان کی سفارتی سمت کو مضبوط کرتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ملاقاتوں کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی منصوبوں، سرمایہ کاری معاہدوں اور ادارہ جاتی تعاون میں ڈھالا جائے، تاکہ پاکستان واقعی معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اگر اسی اعتماد، تسلسل اور عملی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ شراکت نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔