پاک بھارت تعلقات: ایک مصافحہ، ایک امید
اداریہ —- 3 جنوری 2026
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، عدم اعتماد اور محاذ آرائی کی ایک طویل تاریخ ہے جس نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے تعلقات جس حد تک تناؤ کا شکار ہوئے، وہاں کسی بھی مثبت اشارے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایسے ماحول میں ڈھاکا میں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر اور پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان ملاقات اور مصافحہ ایک علامتی مگر معنی خیز پیش رفت ہے۔
یہ ملاقات بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں رہنما ایک انسانی اور بین الاقوامی تقریب میں شریک تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ خود آگے بڑھ کر اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئے اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سفارتی لحاظ سے یہ اقدام اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مئی کی جنگ کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا براہِ راست رابطہ ہے، جبکہ باضابطہ سیاسی اور سفارتی مکالمہ تاحال معطل ہے۔
پاک بھارت جنگ کے بعد تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی نے صرف سفارتی چینلز ہی نہیں بلکہ کھیلوں اور عوامی سطح کے روابط کو بھی متاثر کیا۔ بھارت کی جانب سے اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہ کرنے کی ہدایات اسی کشیدہ فضا کی عکاس ہیں۔ اس کے باوجود دیگر کھیلوں میں دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کا ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرت کی دیواریں عوامی سطح پر مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر گزشتہ برس چین میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے، جہاں ان کی پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی۔ اس رابطے نے واضح کیا کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود مکالمے کی گنجائش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور کسی بھی نئی محاذ آرائی کے اثرات نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو اس وقت غربت، بے روزگاری، ماحولیاتی تبدیلی اور سماجی عدم مساوات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن کا حل تصادم نہیں بلکہ تعاون، گفت و شنید اور اعتماد سازی میں پوشیدہ ہے۔
ڈھاکا میں ہونے والا یہ مصافحہ اگرچہ بظاہر ایک مختصر اور غیر رسمی واقعہ ہے، مگر یہی چھوٹے اقدامات مستقبل میں بڑے سفارتی عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت ماضی کی دشمنیوں کو پسِ پشت ڈال کر حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنائے، تاکہ خطے کو مستقل کشیدگی سے نکال کر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
امن کا سفر اکثر ایک علامتی قدم سے شروع ہوتا ہے—ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مصافحے کو محض ایک اتفاق نہ سمجھا جائے بلکہ مستقل مکالمے کی طرف پہلا سنجیدہ قدم قرار دیا جائے۔

