پاکستانی صحافیوں کو دنیا کے اکثر صحافیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میڈیا عوام کا دشمن ہے، اور دنیا بھر کے آمروں کی بھی یہی رائے ہے
ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر آر ایم این پی کی تقریب کے لیے عالمی شہرت یافتہ سینئر صحافی اور واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایڈورڈ آر مرو کالج آف کمیونیکیشن کے بانی ڈین مسٹر لارنس پنٹاک کے خیالات
صحافت اس وقت شدید دباؤ اور حملوں کی زد میں ہے۔ چیلنجز اور خطرات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، مگر مردان سے لے کر منیاپولس تک رپورٹرز اور ایڈیٹرز کو متعدد معاندانہ قوتوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں حکومتیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کو عوام کا دشمن قرار دیا، اور دنیا بھر کے آمروں کی بھی یہی سوچ ہے۔
تاہم پاکستانی صحافیوں کو دنیا کے بیشتر صحافیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین خطرات کا سامنا رہا ہے۔ میں نے اپنے بہت سے پاکستانی صحافی دوستوں کو دھمکیوں، ہراسانی اور قید و بند کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ دنیا کے مختلف مشکل خطوں میں میرے متعدد رپورٹر اور ایڈیٹر دوست ہیں، مگر پاکستان میں اپنے دوستوں کے لیے میرے دل میں خاص احترام ہے۔ میں نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی جرات اور وابستگی کو ان سنگین حالات میں دیکھا ہے۔
آپ زخمی ہو سکتے ہیں، آپ کو ہر روز خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، مگر آپ پھر بھی ثابت قدم ہیں اور سر بلند کھڑے ہیں۔

