پاکستان اور چین: علاقائی امن، انسدادِ دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر پر مشترکہ عزم
2026اداریہ —- — 7 جنوری
پاکستان اور چین کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا سکیورٹی خدشات، دہشت گردی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک کا دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر اتفاق، دوطرفہ سکیورٹی تعاون میں اضافے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت کا اعادہ نہایت معنی خیز ہے۔
بیجنگ میں ہونے والے اس اعلیٰ سطحی ڈائیلاگ میں پاکستان اور چین نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ ان کے تعلقات محض وقتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد، اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی استحکام کے مشترکہ وژن پر استوار ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایک چین پالیسی کے تحت چین کے بنیادی مفادات—تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین—کی غیر متزلزل حمایت، اور جواباً چین کی طرف سے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون، اس دوستی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
خصوصی طور پر افغانستان اور خطے میں دہشت گرد عناصر کے خاتمے پر زور اس امر کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک امن و ترقی کو لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ دہشت گردی پر دوہرے معیار کی کھلی مخالفت اور سی پیک کے تحفظ کو مشترکہ ذمہ داری قرار دینا، نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ سی پیک 2.0، صنعت، زراعت، معدنیات، گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے جیسے منصوبے اس تعاون کو عملی شکل دیتے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر زور دینا پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی بین الاقوامی تائید ہے، جو چین کی اصولی سفارت کاری اور عالمی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک کا اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری، فاشزم اور عسکریت پسندی کی واپسی کی مخالفت، اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کے خلاف موقف عالمی امن کے لیے اہم پیغام ہے۔
پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر نسل در نسل تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم اس شراکت داری کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی علامت ہے۔ بلاشبہ، پاکستان اور چین کے مابین یہ اسٹریٹجک ہم آہنگی نہ صرف دوطرفہ مفادات بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

