Advertisements

اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان  کا پارلیمنٹ وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کو ایک خط

Over 45 UK MPs Demand Starmer Apologise for Britain's Role in Creation of Israel
Advertisements

سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر 1948 تک حکمرانی کی۔ تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے باضابطہ معافی مانگنے یا ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

برطانیہ کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اپنے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق 45 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین نے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو اپنے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ خط میں کہا گیا کہ بالفور اعلان کے نتائج آج بھی مشرق وسطیٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے مطابق اسی اعلان نے بعد میں ایسے حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

Advertisements

ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت کو اس تاریخی معاہدے کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ یاد رہے کہ سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر 1948 تک حکمرانی کی۔ تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے باضابطہ معافی مانگنے یا ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں