چولستان میں قائم 1700 سے زائد پانی کے ٹوبوں میں سے صرف 180 ٹوبوں میں پانی موجود
گاؤں ویران، نقل مکانی بڑھنے لگی , رحیم یار خان سے ملحقہ گریٹر چولستان میں 100 فیصد ٹوبے خشک ہو چکے بہاول پور سے ملحقہ صحرائی علاقوں میں صرف 55 ٹوبوں میں پانی باقی ہے
چنی گوٹھ (نامہ نگار) صحرائے چولستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال تشویشناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ بارشوں کے طویل تعطل کے باعث پانی کے قدرتی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اس کے اثرات اب اعداد و شمار سے نکل کر انسانی زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خطے کے کئی حصوں میں حالات قابو میں رکھنے کے لیے فوری توجہ ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق چولستان بھر میں قائم 1700 سے زائد پانی کے ٹوبوں میں سے اس وقت صرف 180 ٹوبوں میں پانی موجود ہے۔ رحیم یار خان سے ملحقہ گریٹر چولستان میں صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے جہاں 100 فیصد ٹوبے خشک ہو چکے ہیں۔ بہاول پور سے ملحقہ صحرائی علاقوں میں صرف 55 ٹوبوں میں پانی باقی ہے، جبکہ بہاول نگر کے صحرا میں 125 ٹوبوں میں پانی موجود ہے، تاہم یہ ذخائر بھی محدود اور غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔پانی کی کمی نے مویشیوں اور ان پر انحصار کرنے والی آبادی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ چراگاہیں متاثر ہونے کے باعث چارے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور مویشی مالکان کو جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی خاندانوں کے لیے مویشی ہی روزگار کا واحد ذریعہ ہیں، ایسے میں جانوروں کی کمزوری اور ہلاکتیں معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
چولستان کے دور دراز اور اندرونی گاؤں اس وقت ایک خاموش مگر گہری ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ کچے گھروں کے بند دروازے، اجڑے صحن اور سنسان راستے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں زندگی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ رہی ہے۔ کئی بستیاں جزوی طور پر خالی ہو چکی ہیں، جب کہ رہ جانے والے چند خاندان پانی کی محدود دستیابی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں۔ یہ ویرانی کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل نظرانداز کیے گئے بحران کی تصویر ہے۔خشک سالی کے باعث بعض علاقوں سے نقل مکانی کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ عارضی طور پر قریبی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، تاہم وہاں بھی وسائل محدود ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو مزید خاندان اپنے آبائی گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ سماجی حلقوں اور مقامی نمائندوں نے اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری عملی حکمتِ عملی کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق چولستان میں پانی کے ٹوبوں کی بحالی، متبادل پانی کی فراہمی، مویشیوں کے لیے چارے اور متاثرہ آبادی کے لیے بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے فوری اور سنجیدہ فیصلے ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔

