Advertisements

نئے صوبے: وقت کی اہم ضرورت، بہاولپور صوبہ کی بحالی ناگزیر

Advertisements

اداریہ —– 13 جنوری 2026

پاکستان میں انتظامی مسائل، گورننس کی کمزوری اور عوامی خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم اس حقیقت کو بار بار واضح کر رہی ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیہ اور علاقائی محرومیوں کے تناظر میں نئے صوبوں کا قیام اب محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Advertisements

جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو صوبائی حیثیت دینے کا مطالبہ نیا نہیں۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی تحریک 1970 میں باقاعدہ طور پر شروع ہوئی تھی، جو آج بھی اسی شدت اور جواز کے ساتھ موجود ہے۔ اس خطے کے عوام مسلسل یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب تاریخی، انتظامی اور عوامی بنیادوں پر بہاولپور ایک مکمل صوبہ رہ چکا ہے تو اس کی بحالی میں تاخیر کیوں؟

یہ امر ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی حامی رہی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں پنجاب اسمبلی نے سابق صوبہ بہاولپور کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کے قیام کے حق میں متفقہ قرارداد منظور کی تھی۔ آج یہ دونوں جماعتیں وفاق میں اتحادی حکومت کا حصہ ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام سے کیے گئے یہ وعدے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔

حال ہی میں وفاقی وزیر مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا بیان اس بحث کو ایک بار پھر مرکزی دھارے میں لے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “مسائل کا حل زیادہ صوبوں میں ہے، نئے صوبے سب کے فائدے کے لیے ہیں۔” انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ ملک میں صرف ایک ہائیکورٹ ہونے کے باعث عوام کو دور دراز علاقوں سے آنا پڑتا ہے، اور جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب جیسے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا یہ مؤقف کہ صوبوں کی تقسیم سے کسی کی شناخت ختم نہیں ہوتی بلکہ عوامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوتی ہے، حقیقت پسندانہ اور قابلِ غور ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑے صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں رہتی، جس کا خمیازہ پسماندہ علاقوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بہاولپور خطہ آج بھی صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ نئے صوبے نہ صرف انتظامی بوجھ کم کریں گے بلکہ مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو بھی مؤثر بنائیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تنگ نظری سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کریں۔ بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنا کسی کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے حق میں ہے۔ بہاولپور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کا قیام عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے، جسے مزید نظرانداز کرنا سیاسی بددیانتی کے مترادف ہوگا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان دیرینہ مطالبات کو پورا کرے۔ عوام کے مسائل کا حل وعدوں میں نہیں، عمل میں پوشیدہ ہے۔