Advertisements

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی وارننگ

Advertisements

اداریہ —- 23 جنوری 2026

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے سوشل میڈیا کے حوالے سے جاری کی گئی وارننگ بروقت اور قابلِ توجہ ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جہاں ایک غلط، غیر مصدقہ یا جذباتی پوسٹ نہ صرف کسی فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین یقیناً ایک درست قدم ہے۔

Advertisements

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سوشل میڈیا کو کسی نہ کسی ضابطے کے تحت لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بے لگام پوسٹس، افواہوں اور غیر ذمہ دارانہ مواد نے کئی بار معاشرتی انتشار کو جنم دیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ ضابطہ سازی کی مخالفت کی جائے۔ نظم و ضبط کے بغیر آزادی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ایک سنجیدہ پہلو ایسا بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف صحافتی حلقوں اور رپورٹس کے مطابق بعض سرکاری محکموں کے بدعنوان افسران پیکا قانون کی ترمیم 23-اے کو اپنی بدانتظامی اور کرپشن پر سوال اٹھانے والے صحافیوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

ایسے معاملات سامنے آ رہے ہیں جہاں کسی محکمے کی کارکردگی، عوامی شکایات یا انتظامی کوتاہی پر خبر شائع ہونے کے بعد صحافیوں کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف خوف کی فضا جنم لیتی ہے بلکہ صحافتی ذمہ داری کی انجام دہی بھی متاثر ہوتی ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہمارا مؤقف مادر پدر آزادیٔ صحافت کا نہیں۔ صحافت کو بھی ذمہ داری، تحقیق اور احتیاط کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون کو ذاتی مفاد یا کرپشن چھپانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

پیکا ترمیم 23-اے کا مقصد سائبر جرائم کی روک تھام ہے، نہ کہ انتظامی خامیوں پر آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنا۔ اگر قانون کا اطلاق یکطرفہ ہو جائے تو اس سے نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ نظامِ احتساب بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ این سی سی آئی اے کی وارننگ پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ قانون صرف حقیقی جرائم تک محدود رہے۔ دیانت دار صحافت اور بدنیتی پر مبنی مواد کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ناگزیر ہے۔

ریاست، ادارے اور میڈیا تینوں کی ذمہ داری ہے کہ سوشل میڈیا کو منظم بھی رکھا جائے اور سچ پر مبنی آواز کو دبنے بھی نہ دیا جائے۔ توازن ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو انتشار سے بچا سکتا ہے اور اصلاح کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔