سماجی زندگی میں حقوق کی باہمی پہچان

تحریر: مہ وش مظفر
email: mahvish321@gmail.com
ہیگل اپنے حقوق کے فلسفہ میں دلیل دیتا ہے کہ آزادی میں کسی کے انتخاب کو استعمال کرنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرنا شامل ہے۔ آزادی صرف وہی نہیں ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں ، آزادی تب ہوتی ہے جب میری پسند کو دوسروں نے تسلیم کیا ہو۔ میں اصرار تو کر سکتا ہوں کہ میں جو چاہتا ہوں کرنے کے لیے آزاد ہوں لیکن میں ایسا تب ہی کر سکتا ہوں جب دوسرے افراد میرا حق تسلیم کریں۔ حقوق ہمیشہ تسلیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پہچان اہم ہے اور اگر ہم پہچان حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب اسے دوسروں کی طرف سے پہچانا جائےاور تصدیق کی جائے۔
یہی سب ہمیں اپنے ارد گرد بھی نظر آتا ہے جیسا کہ کہنے کو تو پاکستان میں عورتوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں لیکن درحقیقت معاشرہ عورت کے حقوق کو تسلیم ہی نہیں کرتا جس کی وجہ سے چاہے جتنا مرضی شور مچایا جائے کہ عورت آذاد ہے وہ آذاد نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ تسلیم نا کر لے۔ بالکل اسی طرح تعلیم سب کا حق ہے یہ نعرہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن کیا پاکستانی معاشرہ یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ بچہ مزدوری نہ کرے اور سکول جائے مزدوری اس خاندان کو کھانا دیتی ہے وہ کبھی بھی تعلیم قبول کر کے مزدوری ختم نہیں کریں گے جب تک تعلیم صحت اور بنیادی ضروریات معاشرہ پوری کر کے نا دے۔
ہیگل کا "باہمی پہچان” کا فلسفہ ہمیں حقوق دینے اور حقوق تسلیم کرنے کا سبق دیتا ہے۔ معاشرہ ہمیشہ تحریری حقوق دے کر فرض ادا کر دیتا ہے جبکہ وہ حقوق تب تک حقوق نہیں بنیں گے جب تک معاشرہ خود انہیں حقوق تسلیم نا کرے-اس تعلق کو ہیگل نے سماجی زندگی کہا ہے جو مارکس سے متاثر تھا۔ دو خود شعورجن میں ایک مالک اور دوسرا غلام ہے کی پہچان کی جدوجہد میں غلام سچ کو قبول کرتا ہے اور دوسرےیعنی مالک کو آزادی کے جذبات سے لطف اندوز ہونے دیتا ہے۔
آقا اور غلام کا رشتہ پیچیدہ ہے کیونکہ ماسٹر غالب ہونے کی طاقت استعمال کرتا ہے اور غلام اپنے آپ کو منحصر کرتا ہے-ماسٹر کو درپیش مسئلہ دوہرا ہے۔ ایک طرف یہ ہے کہ وہ غلام سے پہچان لیتا ہے ، آقا غلام کو نہیں پہچانتا ، اور اسی طرح غلام کی پہچان میں اس کی حقیقی قیمت نہیں مل سکتی۔نتیجہ یہ ہے کہ پہچان یک طرفہ اور غیر مساوی ہے۔
دوسرا یہ ہے کہ ماسٹر کی آزادی اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کی آزادی میں وہ حقیقت میں غلام پر انحصار کرتا ہے جو کہ سچ ہے تو وہ بے چین ہوتا ہے۔کیونکہ آقا غلام کا غلام نکلا ، اور یہ کہ غلام آقا کا مالک ظاہر ہوا-
موت کا خوف غلام کو سب سے پہلے آقا کی خدمت میں مزدوری پر مجبور کرتا ہے۔ کیونکہ پیداوار کامالک اس کا آقا ہوتا ہے جسےغلام خاص مہارتوں سے تیار کرتا ہے اور پھر اسی پر انحصار کرتاہے – غلام اپنی محنت کو ایک خاص مہارت سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔
ماسٹر غلام پر انحصار کرتے ہوئے اپنی آزادی حاصل کرتا ہے۔ غلام آزادی سے لطف اندوز نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مالک اور باہمی شناخت کی کمیونٹی میں حصہ نہیں لیتا ہے۔ حقیقی آزادی اور باہمی شناخت کی کمیونٹی قائم ہو جائے تو لوگوں کو دوسرے کے ہاتھوں تشدد سے مرنے کے خوف سے غلام بننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ہیگل کا مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو سادہ اور ایماندارانہ طور پر قبول کر سکتے ہیں کہ ہم مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔یہ ہمیں اندرونی طور پر آزاد کر دے گا- اندرونی آزادی کا احساس ہمیں خاص طور پر دوسروں سے محبت اور معاف کرنے کے لیے آزاد کرے گا۔ اس طرح مذہب اس کمیونٹی کے لیے لازم و ملزوم ہے جسے طاقت کے بجائے دوسروں کے ساتھ محبت ، احترام سے اتحاد کے ذریعے اکٹھا ہونا ہے۔ ہیگل کے لیے باہمی پہچان اہم ہے اور مذہب اس کا لازمی جزو ہے کہ ہم جان لیں کہ ہم مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں-